منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

جنگلی قبیلے: دنیا کا سب سے بڑا اجتماع

datetime 1  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایک وقت تھاجب انسان جنگلوں میں آبادتھے، درختوں کے پتوں سے بدن ڈھانپے جاتے تھے۔تیروں ، نیزوں اور بھالوں سے جانوروں کاشکار کرکے شکم کی آگ بجھانے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔آج کے جدید دور میں اس جنگلی زندگی کا محض تصور ہی کیا جا سکتا ہے لیکن دنیا میں آج بھی ایک جگہ ایسی ہے جہاں سال میں ایک دفعہ آپ انسان کی جنگلی زندگی کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔پاپوا نیوگنی میں ہر سال سینکڑوں قبائلی ایک چھوٹے سے قصبے ”گوروکا“ میں جمع ہوتے ہیں، ان تمام قبائلیوں نے اپنا جسم درختوں کے پتوں سے ڈھانپ رکھا ہوتا ہے، سر پر مور کے پروں سے سجے تاج پہنے اور ہاتھوں میں نیزے اور تیرو کمان اٹھائے یہ قبائلی افراد انسان کی جنگلی زندگی کی عملی تصویر نظر آتے ہیں۔ 100سے زائد قبائل کے سینکڑوں مردوخواتین اور بچے اس جشن نما تقریب میں شریک ہوتے ہیں، روایتی گیت گاتے ہیں اور ڈانس کرتے ہیں۔لوگوںنے چہرے پر مختلف رنگوں سے پینٹ کر رکھا ہوتا ہے۔رنگوںسے بھرپور یہ تقریب جزیرہ پاپوانیوگنی کی قدیم ثقافت کی احسن طریقے سے عکاسی کرتی ہےاس تقریب کا انعقاد ہر سال ستمبر کے مہینے میں ہوتاہے جو سیاحوں کو قدیم جنگلی زندگی کا نظارہ کرنے کا نایاب موقع فراہم کرتی ہے۔ پاپوا نیوگنی کے قریب واقع دو جزیروں مانوس اور بوگین وائل سے بھی قبائلی اس تقریب میں شرکت کرتے ہیں۔یہ فیسٹیول 1957ءمیں آسٹریلوی پیٹرول آفیسرز کی طرف سے شروع کیا گیا تھا،آفیسرز قبائلیوں میں ڈانس، نیزہ بازی، تیر اندازی و دیگر مختلف قسم کے مقابلے کرواتے تھے اور دیکھتے تھے کہ کس ضلع کے لوگ زیادہ منظم ہیں اور قبائل تفاوت کو بھلا کر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔اس تقریب میں 29زبانیں بولنے والے قبائل اپنے اپنے انداز میں رقص کرتے ہیں۔ بیرونی دنیا سے آنے والے سیاحوں کو اس تقریب شرکت کے لیے ادائیگی کرنی پڑتی ہے، تقریب کا ٹکٹ زیادہ مہنگا نہیں ، اس کی قیمت صرف 1پاﺅنڈ مقرر کی گئی ہے۔

abila

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…