جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

نان فائلرز پر گاڑی اور جائیداد خریدنے کی پابندی ختم،ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر اب کتناٹیکس ادا کرنا ہوگا؟تفصیلات منظر عام پر آگئیں

datetime 11  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)ایف بی آر نے بتایا ہے کہ آئندہ بجٹ میں 512 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں،300 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی ہے،تاخیر سے گوشوارے جمع کرانیوالوں پر جرمانہ اور سرچارج لگایا جائیگا،نان فائلرز پر گاڑی اور جائیداد خریدنے کی پابندی ختم کردی گئی ہے،گریجویٹس کو ملازمت دینے والوں کو ٹیکس ری فنڈز دیئے جائیں گے،ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر 2500 روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ایف بی آر کے ممبر ڈاکٹر حامد نے

دیگر ممبران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں 512 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں،بجٹ میں 70 ارب روپے کی ایکسائز ڈیوٹیز، 30 ارب کی کسٹمز ڈیوٹیز لگادی گئی ہی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 200 ارب روپے کا سیلز ٹیکس،200 ارب روپے کا انکم ٹیکس 200 لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس بانڈز جاری کررہے ہیں،تاخیر سے گوشوارے جمع کرانیوالوں پر جرمانہ اور سرچارج لگایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر ایک ہزار، بغیر تنخواہ دار پر تین ہزار سرچارج لگایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کمپنیوں پر 20 ہزار روپے سرچارج لگایا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ نان فائلرز پر گاڑی اور جائیداد خریدنے کی پابندی ختم کردی گئی ہے،گریجویٹس کو ملازمت دینے والوں کو ٹیکس ری فنڈز دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بغیر رشتہ دار سے گفٹ کو انکم تصور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال 257 ارب روپے کے گفٹس دیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کم از کم ٹرن اوور ٹیکس 1.2 فیصد سے بڑھا کر 1.5 فیصد کردیا گیاہے،براون فیلڈ کمپنیوں کو ٹیکس رعایت 2020 تک فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نان فائلرز کیلئے دسواں شیڈول متعارف کرایا گیا ہے،نان فائلرز کو خود بخود ٹیکس کٹوتی کیلئے آمدن بنا کر جرمانہ وصول کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ نان فائلرز کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پراپرٹی انکم ٹیکس کا ریٹ 20 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کردیا گیا ہے،

خدمات پر ٹیکس کی 2 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کردی گئی ہے،مقامی برانڈز اور فرنچائز پر 15 فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس کی چھوٹ 5لاکھ روپے کردی گئی ہے،ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر 2500 روپے ٹیکس ہوگااور انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ حد 35 فیصد کردی گئی۔انہوں نے کہا کہ زیرو ریٹیڈ ٹیکس کی سہولت ختم کردی گئی ہے،پانچ برآمدی شعبوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی مقامی فروخت پر 17 فیصد ٹیکس عائد ہوگا،ان شعبوں سے اگلے سال کے دوران 90 ارب روپے کا ٹیکس وصول ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 300 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کولڈ ڈرنکس پر ایکسائز ڈیوٹی 11 فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد کردی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…