جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

ذیابیطس کے مریضوں کو پھل کھانے چاہئیں یا نہیں؟

datetime 16  دسمبر‬‮  2015
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو پھل کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے اور دوسری جانب پھلوں کو صحت کا خزانہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو پھل کھانے چاہئیں یا نہیں؟اس کا جواب بہت سادہ سا ہے کہ شوگر کے مریضوں کو پھل کھانے چاہئیں تاہم ان کے انتخاب میں تھوڑی عقل مندی سے کام لینا چاہئے۔ ہر پھل میں چینی کی مقدار موجود ہوتی ہے۔

عام طور پر پھل کی ایک پلیٹ میں 15 گرام چینی ہوتی ہے تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک پھل کی کتنی مقدار ایک بار میں لی جاتی ہے یا پلیٹ کا سائز کتنا بڑا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ درمیانے سائز کاآدھا کیلا کھاتے ہیں تو اس طرح آپ پندرہ گرام کاربوہائیڈریٹس لے لیتے ہیں۔ آدھا کپ آم اور تین چوتھائی کپ انناس میں بھی اسی قدر مقدار میں کابز ہوتے ہیں۔ پھلوں میں موجود فریکٹوز چینی کی وہ قسم ہوتی ہے جو کہ صحت کیلئے نقصان دہ ہوتی ہے اور اگر یہ پروسیسڈ فوڈز میں شامل کرنے کیلئے پھلوں سے علیحدہ کیا جائے۔ تب ان کے نقصانات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ کولیسٹرول میں اضافہ، وزن میں زیادتی، انسولین کے مسائل سمیت ان گنت مسائل اسی فریکٹوز کی بدولت ہوتے ہیں۔ دور جدید میں پیدا ہونے والے پھلوں کو ”ہائیبرڈائیزیشن“ کے عمل سے گزارا جاتا ہے جس سے ان میں فریکٹوز کی مقدار کہیں زیادہ بڑھ چکی ہوتی ہے۔ یعنی کہ ہم اپنے آبا کے زیر استعمال رہنے والے پھلوں میں موجود فریکٹوز کی نسبت پچاس گنا زیادہ میٹھے پھل کھاتے ہیں۔علاوہ ازیں پھل کھانے کا طریقہ کار بھی اسے نقصان دہ یا فائدہ مند بناتا ہے۔ برٹش میڈیکل جرنل کی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ پھلوں کی معمولی مقدار لینے والوں میں ذیابیطس کے امکانات 23فیصد تک کم ہوجاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اگر پھلوں کے رس کے بجائے اسے ثابت کھانے پر توجہ دی جائے تو بھی پھل کے ہاضمے کو بہتر اور اسے کم نقصان دہ بنایا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…