اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

ورلڈ بینک نےپاکستان کی معاشی ترقی کا بھانڈا پھوڑدیا،حیران کن انکشافات

datetime 10  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(اے این این،این این آئی )ورلڈ بینک کے مطابق سالانہ 20 لاکھ افراد کو نوکریاں دینے کے لئے معاشی ترقی کی شرح 7 فیصد ہونا ضروری ہے۔معیشت میں سست روی کے باعث رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح میں کمی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں ۔

جبکہ مالی سال 18-2017 معاشی ترقی کی شرح کئی عرصے کے بعد 5 اعشاریہ 8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔اس سے قبل مالی سال 17-2016 میں 5 اعشاریہ 4 فیصد، مالی سال 16-2015 میں 4 اعشاریہ 6 فیصد اور مالی سال 15-2014 میں 4 اعشاریہ 1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ملکی معیشت کا حجم 300 ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 19-2018 میں معاشی ترقی کی شرح 3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔معیشت کے حجم کو اگر آبادی سے تقسیم کیا جائے تو فی کس آمدن کا پتا چلایا جاتا ہے جو 18-2017 میں 1629 ڈالر سے بڑھ کر 1640 ڈالر تک پہنچ گئی۔ملکی مجموعی پیداوار میں خدمات کا حصہ 59 فیصد، انڈسٹری 21 فیصد اور زراعت کا 20 فیصد ہے۔ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں ہر سال 20 لاکھ نئے افراد روزگار کے متلاشی ہو جاتے ہیں۔ اتنی بڑی افرادی قوت کو کھپانے کے لیے حکومت کو معاشی ترقی کی رفتار سالانہ 7 فیصد تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب مشیر تجارت عبد الرزاق دائود نے کہا ہے کہ برآمدات بڑھانے کیلئے دی جانیوالی سبسڈی آئندہ مالی سال بھی جاری رہے گی۔نجی ٹی وی کے مطابق مشیرتجارت رزاق دائودنے کہاکہ تجارتی خسارے میں کمی ہورہی ہے،برآمدات میں سات فیصد کااضافہ ہواہے۔

رجحان کو جاری رکھنے کیلئے مراعات جاری رکھی جائیں گی۔وفاقی مشیرتجارت نے کہا کہ گارمنٹس کی برآمدات میں انتیس فیصد، سیمنٹ پچیس فیصد،باسمتی چاول اکیس فیصدجبکہ فٹ وئیرز کی برآمدات چھبیس فیصد بڑھیں جبکہ درآمدات کی مالیت میں چار ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔مشیر تجارت نے بتایاکہ برآمدی سیکٹرکوبجلی اورگیس پردی جانے والی سبسڈی آئندہ مالی سال بھی جاری رکھی جائیگی تاکہ برآمدات بڑھانے کے اہداف حاصل کیے جاسکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…