جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

چاند دیکھ کر عید کرنے کا حکم ہے، فواد چودھری کا 5 سالہ کیلنڈر نہیں چلے گا،مفتی محمد نعیم نے فواد چودھری کو وزارت سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا

datetime 4  جون‬‮  2019 |

کراچی (آن لائن) جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم اعلیٰ مفتی محمدنعیم نے فواد چودھری کو وزارت سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا، انہوں نے کہا کہ چاند دیکھ کر عید کرنے کا حکم ہے، فواد چودھری کا 5سالہ کیلنڈر نہیں چلے گا، سائنس شریعت کے تابع ہے،28 روزے رکھنے والوں پر قضا لازم ہے۔ انہوں نے آج یہاں کراچی میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ چاند کے مسئلے پرخیبرپختوبخواہ حکومت نے عید منانے کا اعلان کردیا۔

اسلام میں 28 روزے نہیں ہوتے۔ خیبرپختوبخواہ حکومت کے کہنے پر جس نے 28 روزے رکھے ہیں ان پر روزے کی قضا لازم ہے۔انہوں نے کہا کہ فواد چودھری نے مذہبی معاملات میں مداخلت شروع کردی ہے۔یہ روایت ہمارے ملک کیلئے نقصان دہ ہے۔سائنس شریعت کے تابع ہے، شریعت سائنس کے تابع نہیں۔انہوں نے کہا کہ علماء  کا مذاق اڑانا اور طنز کرنا مناسب نہیں۔ مفتی نعیم نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ فواد چودھری کوفوری وزارت سے ہٹادے۔انہوں نے کہا کہ چاند دیکھ کر عید کرنے کا حکم ہے، فواد چودھری کا 5سالہ کیلنڈر نہیں چلے گا۔ دوسری جانب خیبرپختونخواہ کے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ فواد چودھری حکومت اور علماء  کو ٹارگٹ نہ کریں، مفتی فواد کومشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے کام پر توجہ دیں، مفتی منیب الرحمان نے فواد چودھری کوایک عید کی کوششوں پراعتراض کیا۔ انہوں نے آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں عید کے اعلان سے پہلے وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا۔وزیراعظم نے جواب دیا کہ آپ کا معاملہ ہے آپ بہترسمجھتے ہیں۔ مفتی منیب کے کہنے پر روزہ رکھا مگرایک دن پہلے والے روزہ ٹھیک تھا۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی نے رمضان کا چاند دیکھنے میں غلطی کی جس کی وجہ سے ایک دن تاخیر سے روزے شروع ہوئے، اب ازالہ کرتے ہوئے عید وقت پر منائی، خوشیوں بھرے تہوار کے بعد ایک روزے کا کفارہ ادا کیا جائیگا۔ شوکت یوسفزئی نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دو سے تین عیدیں ہوتی تھیں،

حکومت کے اعلان کا مقصد صوبے میں ایک عید منانا تھا، مسئلے کو حل کرنے کیلئے کوششیں کرنی ہوں گی۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کوشش کی ہے صوبے میں ایک عید منائی جائے، پہلے فاٹا اور قبائلی علاقے اپنی اپنی عید مناتے تھے، افغانستان میں چاند نظر  آ جاتا ہے، ہمیں نظر نہیں  آتا، فاٹا میں چاند نظر  آجاتا ہے، ہمیں نظر نہیں آتا۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ہمیں چاند کے مسئلے کو حل کرنا ہوگا، کسی نے اس مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی، ایک دن سعودی عرب عید ہے تو دوسرے دن پاکستان میں ہو، اس طرح کا میکنزم ہونا چاہیے،  آج سے 30، 40 سال پیچھے چلیں جائیں تو کونسے کیمرے تھے، ہمیں چاند کے معاملے پر ایک بات پر متفق ہونا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…