جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

دہی کھٹا ہونے پر میاں بیوی میں ہونے والا جھگڑا کئی جانیں لے گیا، معمولی سی بات پر کئی گھر تباہ۔۔ کئی خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہو گئے

datetime 3  جون‬‮  2019 |

ملتان(نیوز ڈیسک) دہی کھٹا ہونے پر میاں بیوی میں ہونے والے معمولی جھگڑے نے کئی گھر تباہ کر دیے۔ یہ معمولی تنازع دوہرے قتل کی افسوسناک واردات کی وجہ بن گیا، تھانہ سیتل ماڑی کے علاقہ محلہ رحمان پورہ کے رہائشی جاوید اقبال اور ارشد نے تقریباً سات سال قبل اپنی بہن ثمینہ کی شادی غلام علی سے کی جو پلمبر کا کام کرتا تھا، ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے، شادی کے کچھ عرصے بعد ہی دونوں میاں بیوی کے درمیان گھریلو ناچاقی اور جھگڑے معمول بن گئے۔

دونوں میاں بیوی کے درمیان چند روز پہلے جھگڑا ہوا، اس جھگڑے کی بنیاد کھٹا دہی تھا، غلام علی سحری کے لیے جو دہی لایا وہ کھٹا تھا، اس پر دونوں میاں بیوی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، بات بڑھتے ہوئے ہاتھا پائی تک چلی گئی اس دوران ثمینہ بی بی کو اس کے شوہر غلام علی نے دھکا دیا تو اس کی آنکھ کے نیچے زخم آ گیا۔ اس جھگڑے کے بعد ثمینہ کے بھائیوں کو کہا گیا کہ وہ اپنی بہن کو آ کر لے جائیں، خاندان کے ایک بزرگ کے ساتھ ثمینہ کو اس کے بھائیوں کے گھر بھیج دیا گیا، جب اس کے بھائیوں نے اس کے چہرے کے زخم دیکھے تو انہوں نے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا، اپنی بہن کا میڈیکل کروا کر ویمن پولیس سنٹر میں اپنے بہنوئی کے خلاف درخواست دے دی، ویمن سینٹر میں اس معاملے کو درست انداز میں ڈیل نہیں کیا گیا، جب غلام علی کو ویمن پولیس سینٹر آنے کا کہا گیا تو اس نے خود کو شہر باہر قرار دیتے ہوئے فون بند کر دیا، پولیس کو رپورٹ دینے پر غلام علی غصے میں آ گیا وہ اپنے بھائی ظفر اور والدہ زبیدہ کے ہمراہ اپنے سالوں کے گھر گیا، محلہ رحمان پورہ میں جاوید اقبال اور ارشد کے گھر پہنچا اور چھریوں کے وار کرکے دونوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، ان کے دو نوجوان بیٹوں بابر اور عامر کو شدید زخمی کر دیا۔ خواتین اور بچوں کی چیخ و پکار پر اہل محلہ موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے غلام علی کو ایک کمرے میں بند کر دیا اس کے باقی ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔اس جھگڑے نے کئی گھر تباہ کر دیے ہیں، پولیس نے غلام علی کو حراست میں لے لیا ہے اور واردات میں استعمال ہونے والی چھریاں بھی برآمد کر لی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…