پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

امریکہ میں ایسی بچی کی پیدائش کہ جس کے معمولی سے وزن نے پوری دنیا کو حیرت ورطہ میں ڈال دیا

datetime 31  مئی‬‮  2019 |

کیلی فورنیا (این این آئی)امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ہسپتال نے دنیا کی سب سے چھوٹی، کم وزن اور بچ جانے والی بچی کی پیدائش کا اعلان کیا ہے جس کا وزن صرف 245 گرام (8.6) اونس ہے۔ بچی کا پیدا ہونے کے وقت وزن ایک بڑے سیب جتنا تھا۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بچی کی پیدائش ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے شارپ میری برچ ہسپتال میں ہوئی ہے۔

اور ہسپتال سٹاف نے اس کا نام سیبی رکھا۔ سیبی کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ 23 ہفتے اور تین دن کی حاملہ تھیں۔ڈاکٹروں کی جانب سے سیبی کی پیدائش کے وقت ان کے والد کو بتایا گیا تھا کہ ان کی بچی صرف ایک گھنٹہ ہی زندہ رہ سکے گی۔ہسپتال کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک گھنٹہ کئی گھنٹوں میں تبدیل ہو گیا اور پھر ایک دن اور پھر ایک ہفتہ ہو گیا۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سیبی کی پیدائش گذشتہ برس دسمبر میں آپریشن کے ذریعے ہوئی اور حمل کی سخت پیچیدگیوں نے ان کی والدہ کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیا تھا۔سیبی کو پانچ ماہ تک ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھنے کے بعد اس مہینے کے شروع میں ڈسچارج کر دیا گیا اس وقت ان کا وزن پانچ پاؤنڈ تھا۔ہسپتال کی ایک نرس ایما وائسٹ کا کہنا ہے کہ سیبی پیدا ہونے کے وقت اس قدر چھوٹی تھی کہ اسے بمشکل بستر پر دیکھا جا سکتا تھا۔نرس کا مزید کہنا تھا کہ سیبی کا وزن بچوں کے جوس کے ڈبے جتنا تھا اور اسے آسانی سے ہتھیلی پر اٹھایا جا سکتا تھا۔ایما وائسٹ نے کہا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے ہسپتال میں اس قدر چھوٹی بچی کی پیدائش ہوئی ہے تو یہ بات ناقابل یقین لگی کیونکہ سیبی کا وزن 23 ہفتوں کے بعد پیدا ہونے والے ایک عام بچے سے بھی آدھا تھا۔یونیورسٹی آف آئیووا کی چھوٹے اور کم وزن بچوں کی فہرست کے مطابق سیبی دنیا کی سب سے چھوٹی بچی ہیں۔اس سے قبل دنیا کے سب سے چھوٹے بچے کا ریکارڈ جرمنی میں 2015 میں پیدا ہونے والے بچے کا تھا جس کا پیدائش کے وقت وزن سیبی سے سات گرام زیادہ تھا۔یونیورسٹی آف آئیووا کے پروفیسر ایڈورڈ بیل نے کہا کہ کچھ لوگ یقین نہیں کرتے لیکن زندگی میں ایسے معجزات رونما ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…