ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

خطرے کی گھنٹی بج گئی،ڈالر کا انٹربینک مارکیٹ میں بڑھنا کس چیز کا پیش خیمہ ہے، ماہرین معاشیات نے انتہائی تشویشناک پیش گوئی کردی

datetime 22  مئی‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)آئی ایم ایف سے پروگرام کے بعد ڈالر مسلسل بے قابو ہوتا جا رہاہے، معاشی ماہرین نے حکومت کو موجودہ صورتحال پر واضح پالیسی بنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈالر کا انٹربینک مارکیٹ میں بڑھنا خطرناک ہے۔ہرمعاشیات ذیشان مرچنٹ نے کہا کہ ڈالر کا انٹر بینک مارکیٹ میں بڑھ جانا الارمنگ صورتحال ہے، حکومت کو صورتحال پر پالیسی بنانا پڑے گی۔انہوں نے کہاکہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ آئی ایم ایف کا مطالبہ بھی ہے،حکومت کو کوئی واضح حکمت عملی سامنے لانا پڑے گی۔معاشی امور کے ماہر

مزمل اسلم نے کہاکہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے پٹرول کی قیمت بھی بڑھے گی۔فاریکس ڈیلر ملک بوستان نے کہاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آنے تک روپے کی قدر مستحکم ہونے کا امکان نہیں ہے، رواں سال کے آخر تک روپے کی قدر میں مزید 15 سے 20 فیصد تک کمی کا امکان ہے۔یاد رہے کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے بعد روپے کی قدر مستحکم رکھنے کیلئے زائد ریٹ پر ڈالر فروخت کرنے والی کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا حکم دیا تھا تاہم ڈالر کی اڑان جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…