پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

قرض میں ڈوبی معیشت،اربوں ڈالرز کی کرپشن،ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کی حکومت میں معاشی بحالی کی امیدیں دم توڑنے لگیں 

datetime 13  مئی‬‮  2019 |

کوالالمپور (این این آئی)ایک سال قبل ملائیشیا کے محمد نور الف کی امیدیں بلند تھیں کہ انتخابات میں 93 سالہ مہاتیر محمد کی حیران کن کامیابی بڑھتی ہوئی کرپشن اور عوامی قرض میں گھرے ملک میں اصلاحات اور بحالی کا باعث بنے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مردیکا سینٹر کی جانب سے منعقد کیے گئے رائے عامہ سروے میں کہاگیاکہ مارچ میں حکومت کی حمایت کم ہو کر 39 فیصد ہوگئی جو کہ اگست 2018 میں 66 فیصد تھی۔

رائے عامہ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات میں اپ سیٹ کے بعد سے ایسی امیدوں نے تیزی سے دم توڑا ہے جس میں یونائیٹڈ ملائیز نیشنل آرگنائزیشن (یو ایم این او)60 سال میں پہلی مرتبہ اس کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اور اس کی جگہ مہاتیر محمد اور پکاتن ہراپن اتحاد نے جگہ بنائی۔مہاتیر محمد جنہیں ورثے میں قرض میں ڈوبی معیشت ملی تھی ان کی انتظامیہ کی توجہ عوامی پیسوں کی اربوں ڈالر کرپشن ختم کرنے پر مرکوز ہے جس میں سرکاری فنڈ اور سابق وزیراعظم نجیب رزاق کے کرپشن اسکیں ڈل شامل ہیں۔اس کے ساتھ ہی حکمراں اتحاد میں تقسیم کی وجہ سے حکومتی ریونیو میں اضافے، سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں سبوتاڑ ہوئیں ہیں۔اسی عرصے میں مہاتیر محمد کی مقبولیت 71 فیصد سے کم ہوکر 46 فیصد ہوگئی تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ ان اعداد پر یقین نہیں رکھتے۔مردیکا سینٹر کا کہنا تھا کہ ملائیشیا کے مسلمان جو ملک کی 3 کروڑ 20 لاکھ آبادی کا 60 فیصد حصہ ہیں وہ مہاتیر محمد کی انتظامیہ پر بڑے پیمانیپر تنقید کررہے ہیں۔ملک میں اکثر غریب افراد مالائے ہیں اور دہائیوں سے یو ایم این او ای کی جانب سے فراہم کی جانے والی سبسڈیز اور دیگر اقدامات سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔اکثریتی برادری میں اکثر افراد اس وقت بھی برہم ہوئے تھے جب مہاتیر محمد نے چینی شخص کو وزیر خزانہ اور ملائیشیا کی ہندو اقلیت سے تعلق رکھنے والے شخص کو اٹارنی جنرل تعینات کیا تھا اور کہا تھا کہ مالائے افراد کو نقد دی جانے والے رقم میں کمی کی جاسکتی ہے۔

محمد نور الف نے دارالحکومت میں سیکڑوں افراد کے ہمراہ احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اکثر نوجوانوں کی اس نئی حکومت سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں لیکن ہم نے جس کی امید کی تھی ویسا کچھ نہیں دیکھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کے لیے بہتر مستقبل کی یقین دہانی چاہتے ہیں خاص طور پر مالائے نوجوانوں کے لیے۔تاہم یو ایم این او اور اپوزیشن جماعت پی اے ایس ووٹرز کو یاد دہانی کرواتے ہیں کہ مہاتیر محمد اسلام کی بالادستی اور مالائے افراد کے مفادات کی حفاظت میں ناکام رہے۔

سیاسی خطرات سے متعلق مشاورت کے بوور ایشیا گروہ کے ملائیشین ڈائریکٹر عدیب زلکلپی نے کہا کہ پاکستان مالائے مسلم الیکٹرویٹ سے واقف نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یو ایم این او اور پی اے سی کمیونل جذبات کا استحصال کرکے حکومت کو چیلنج کررہی ہیں۔اسی طرح پکاتن میں اصلاحات کے مقاصد کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے، پکاتن ان جماعتوں کا اتحاد ہے جو نجی رزاق اور یو ایم این او کو ہٹانے پر متفق ہوئے تھے لیکن اب اس پر رضامند دکھائی نہیں دیتے۔سینئر حکومتی ذرائع نے حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہر کسی کو مسائل کا اندازہ ہے جو ہمیں درپیش ہیں لیکن اس حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہورہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…