ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

اے این پی نے حکومت کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا

datetime 9  مئی‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت مقامی حکومتوں کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات دینے میں ناکام رہی ہے اور انہیں ان کا قانونی مالی حصہ تک ادا نہیں کیا گیا،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے بنائے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 30فیصد کی بجائے15فیصد تک

منتقل نہیں کئے،، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اختیارات نچلی سطح تک منتقلی کے برائے نام دعوے کر رہی ہے،نئے بلدیاتی نظام کے خلاف جلد عدالت میں لے کر جائیں گے، کیس تیار کر لیا گیا ہے اور بہت جلد اسے چیلنج کیا جائے گا،، انہوں نے کہا کہ عدالت سے انصاف کی امید ہے، حکومت نصف بلدیاتی الیکشن سیاسی اور بقیہ نصف غیر سیاسی بنیادوں پر کرانا چاہتی ہے، ضلع کونسل کو ختم کرنا نا قابل برداشت ہے، انہون نے کہا کہ تحصیل ناظم کے خلاف مواخذہ کس طرح ممکن ہے؟ سردار حسین بابک نے کہا کہ حکومت غیر سیاسی بنیادوں پر ویلج کونسل کے انتخابات کر کے ہارس ٹریڈنگ کا راستہ کھولنا چاہتی ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے میں بلدیاتی حکومتوں کو کلاس فور کی تبدیلی کا اختیار تک نہیں دیا گیا جبکہ ملک میں اختیارات کی منتقلی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کے قول و فعل میں تضاد ہے اور یہی وجہ ہے تمام مکتبہ فکر کے لوگ حکومت سے نالاں ہیں، نااہل حکمرانون کی اصلیت عوام پر آشکارا ہو گئی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے سولوفلائٹ سے جو بلدیاتی نظام بنایا ہے وہ کمزور ترین نظام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…