جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

یورپی حکومتوں کے پچاس ارب یورو چرا لیے گئے، یہ رقم کیوں اور کیسے چرائی گئی؟حیران کن انکشاف

datetime 9  مئی‬‮  2019 |

برسلز(این این آئی)یورپی ممالک میں جرائم پیشہ افراد کے گروہوں نے گزشتہ برسوں کے دوران ٹیکسوں کی مد میں تقریبا پچاس ارب یورو چرا لیے۔ یہ عوامی شعبے کی وہ رقوم تھیں، جو یورپی ممالک کی حکومتوں کو ٹیکسوں کے طور پر ادا کی جانا چاہییں تھیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دنیا کے بہت سے دیگر ممالک کی طرح یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں بھی تجارتی شعبے پر مختلف شرحوں سے وہ ٹیکس عائد ہے، جو عام صارفین ادا کرتے ہیں اور جو ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی)کہلاتا ہے۔

تقریبا 50 ارب یورو کی یہ رقوم اسی مخصوص سیلز ٹیکس کی مد میں سرکاری خزانوں میں جمع کرائی جانا تھیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔کئی طرح کے مجرمانہ ہتھکنڈوں اور پیچیدہ طریقوں کی مدد سے جرائم پیشہ گروہوں کی طرف سے کی جانے والی یورپ میں اس طرح کی ٹیکس چوری سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک جرمنی ہے، جو یورپی یونین کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست بھی ہے اور یورپ کی سب سے بڑی معیشت بھی۔جرمن صحافتی این جی او کوریکٹِیو کے مطابق یہ جرائم پیشہ گروہ ان ٹیکس رقوم کی جو چوری کرتے ہیں، اس میں ان کے لیے سب سے بڑا چور دروازہ اس وجہ سے کھل جاتا ہے کہ یورپی یونین کے رکن مختلف ممالک میں وی اے ٹی ٹیکس کی شرح مختلف ہے۔ رپورٹ کے مصنفین کے مطابق، یہ گروہ یونین کے اندر اشیا اور پیشہ ورانہ خدمات کی آزادانہ نقل و حمل کی سہولت کو استعمال کرتے ہوئے اپنی اشیا زیادہ ٹیکس والی ریاستوں سے کم ٹیکس والے ممالک میں منتقل کر دیتے ہیں۔ اس طرح انہیں ٹیکسوں کی ان رقوم کی قانونی واپسی کی سہولت بھی حاصل ہو جاتی ہے، جو انہوں نے ادا کی ہی نہیں ہوتیں یا جو رقوم وہ لوٹائے جانے کے بعد ان ممالک کو ادا کرتے ہی نہیں، جن کا ان پر قانونی حق ہوتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جرمنی میں مروجہ ٹیکس نظام ایسا ہے کہ اس سے بھی جرائم پیشہ گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے یا انہیں

اس سسٹم کے غیر قانونی استعمال کا موقع مل جاتا ہے۔ یوں جرمن ریاست ایسے گروہوں کو مخصوص قانونی سقم کے باعث سالانہ اتنا زیادہ ٹیکس واپس کر دیتی ہے کہ اس کی مالیت پانچ ملین یورو سے لے کر پندرہ ملین یورو تک بنتی ہے۔دوسری طرف ایسے گروہوں کے خلاف قانونی کارروائی کی خاطر تفتیشی ماہرین کے کام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی جرمن قانون ہی ہے۔ اس لیے کہ جرمنی میں وی اے ٹی نامی ٹیکس تمام سولہ وفاقی صوبوں کی انفرادی عمل داری میں آتا ہے،

ہر صوبے کے اپنے قوانین ہیں اور وفاقی صوبے اس سلسلے میں اپنے اپنے اختیارات وفاقی حکومت کے حوالے کرنے پر تیار نہیں ہیں۔اس رپورٹ میں شامل کردہ حقائق میں ایک ایسے جرمن نوجوان کی مثال بھی دی گئی ہے، جس کا تعلق جرمنی کے ایک مغربی صوبے سے ہے اور جو چند برس پہلے تک ایک مقامی اسکول کے پیچھے ایک خالی جگہ پر کھڑا ہو کر موبائل فون فروخت کرتا تھا۔لیکن آج یہی جرمن باشندہ چند برس کے اندر اندر ٹیکس چوری کے نیٹ ورک کا ایسا مرکزی کردار بن چکا ہے کہ

وہ گیارہ ایسی کمپنیاں چلا رہا ہے، جو سب کی سب دوسرے لوگوں کے ناموں پر کھولی گئی ہیں۔اس رپورٹ میں متعلقہ جرمن این جی او نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کی حکومتوں کے لیے اس طرح پہنچنے والے مالیاتی نقصان سے بچنے کا ایک ممکنہ راستہ یہ ہے کہ پوری یورپی یونین میں تجارتی شعبے کے لیے یکساں شرح سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس متعارف کرا دیا جائے۔عملی طور پر یورپی یونین میں ایسے کسی متفقہ وی اے ٹی ٹیکس سسٹم کی حمایت کافی کم ہے۔ اب تک چیک جمہوریہ ہی یونین کا رکن وہ واحد ملک ہے، جس نے یونین میں وی اے ٹی سسٹم کے غلط استعمال کے ذریعے ٹیکس چوری کی روک تھام کے معاملے کو اپنے ہاں کے حکومتی ایجنڈے کا حصہ بنایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…