منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

ماں کی خدمت کیلئے عدالت میں مقدمہ لڑنے والا سعودی شہری چل بسا‎

datetime 6  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) جائیداد پر اولاد کے درمیان لڑائی جھگڑے اور عدالتوں تک نوبت پہنچنے کے واقعات تو بہت ہیں مگر ماں کی خدمت کے حق پر اولاد میں مسابقت اورعدالت میں اس حوالے سے کارروائی عدالتی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہی ہو سکتا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی عدالتوں کے ریکارڈ میں کچھ عرصہ پیشتر ایک ایسا مقدمہ سامنے آیا تھا جس نے ہرسننے والے کو حیران کر دیا۔یہ مقدمہ دو بھائیوں کے درمیان تھا اور وہ دونوں الگ الگ اپنی ماں کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ ماں کی خدمت کا جذبہ ان میں سے ایک بھائی حیزان الحربی کو عدالت لے گیا۔ حیزان الحربی خود بھی چل بسے مگر ان کی جانب سے ماں کی خدمت کا جذبہ ایک ضرب المثل بن چکا ہے۔عدالت میں طویل بحث کے بعد عدالت نے حیزان الحربی کے چھوٹے بھائی کو ماں کی خدمت کی ذمہ داری سونپی جس پر حیزان صدمے سے نڈھال ہو گئے۔عدالت کی طرف سے حیزان الحربی کو ماں کی خدمت کی اجازت اس لیے نہ دی گئی کہ وہ خود بھی بڑھاپے میں تھے جب کہ ان کے چھوٹے بھائی ماں کی بہتر خدمت بجا لا سکتے تھے۔ ایک ماہ قبل حیزان الحربی گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی ہو گئے تھے۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ کچھ عرصہ کومے میں رہنے کے بعد چل بسے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…