منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اقتصادی راہداری , ، اے پی سی کی اندرونی کہانی

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بعض سیاسی جماعتوں اور خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ کے تحفظات مکمل طو رپر دور کر دئیے اور تمام رہنماﺅں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے کی بروقت تکمیل کیلئے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیاجائیگا جبکہ آئندہ 2 ہفتوں کے دوران اقتصادی راہداری کے منصوبے کی مانیٹرنگ کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیدی جائیگی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہو گی جبکہ چاروں صوبائی وزراءاعلیٰ کو بھی کمیٹی کا رکن بنایا جائیگا ‘ اے پی سی میں رہنماﺅں نے کہا کہ یوم تکبیر کے روز آج حکومت نے ایک اقتصادی دھماکے کا بھی آغاز کر دیا ہے جس پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے‘ سیاسی رہنماﺅں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ یہ جمہوریت کا ہی حسن نے کہ وزیر اعظم نے تمام سیاسی قیادت کو بلا کر اہم منصوبے پر اعتماد میں لیا ہے اور تحفظات بھی دور کئے ہیں‘ اے این پی کے صدر اسفند یار ولی اور خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ آج کی بریفنگ کے بعد ہمارے تحفظات اور خدشات ختم ہو گئے ہیں اور ہم اس قومی منصوبے کیلئے حکومت کے ساتھ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق باخبر ذرائع نے ”آئی این پی“ کو آل پارٹیز کانفرنس کے اجلاس کی اندرونی کہانی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اے پی سی کا ماحول انتہائی خوشگوار رہا اور وزیر اعظم کے خطاب کے بعد تمام سیاسی رہنماﺅں نے وزیر اعظم کو اس بات پر مبارکباد دی کہ آج پوری قوم ایٹمی دھماکے کرنے پر یوم تکبیر منا رہی ہے اور آج ایک اقتصادی دھماکے کا بھی دن ہے۔ آج کے دن کو بھی یوم تکبیر کے طورپر یاد رکھا جائیگا۔ رہنماﺅں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے روٹ پر بریفنگ کے بعد ہمارے تحفظات ختم ہو گئے ہیں اور جن ترجیحات کا حکومت نے اعلان کیا ہے ان پر عملدرآمد فوری طور پر ہونا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق اسفند یار ولی نے کہا کہ بریفنگ سے قبل ہمارے بہت تحفظات تھے کیونکہ اس سے پہلے ہمیں اس منصوبے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ زرا ئع کا کہنا ہے کہ بریفنگ کے بعد اسفند یار ولی نے انتہائی مثبت سوچ کا اظہار کیا اور کہا کہ مغربی روٹ پر کام شروع کرنے کے فیصلے کے بعد اب ہمارے تحفظات ختم ہو گئے ہیں اور ہم مکمل طو رپر حکومت کا ساتھ دینگے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…