منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان آنے کا اعلان

datetime 27  مئی‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے جون میں پاکستان آنے کا اعلان کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی مضحکہ خیز اور انصاف کا خون ہے، ہمیں نواز شریف ،شہباز شریف ،رانا ثناءاللہ، آئی جی اور توقیر شاہ کے سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں براہ راست ملوث ہونے کے حوالے سے رتی برابر بھی شک نہیں،مضحکہ خیز رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں انصاف لینے سڑکوں پر آ گئے ،اپنا یہ حق انصاف ملنے تک استعمال کرتے رہیں گے،سربراہ افواج پاکستان، سکیورٹی اداروں اور پوری قوم کے علم میں لارہا ہوں کہ شریف سلطنت پاکستان میں داعش کا راستہ ہموار اور آپریشن ضرب عضب کی قربانیوں کو ضائع کرنے کے راستے پر چل رہی ہے، جب تک یہ حکمران مسلط رہیں گے دہشتگردی ختم نہیں ہوگی، سلطنت شریفیہ کا سیاسی وجود پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش ہے ان حکمرانوں کی وجہ سے پہلے طالبان آئے اب ان کے ظالمانہ رویوں کے باعث داعش کا راستہ ہموار ہورہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹورنٹو کینیڈا سے ویڈیو لنک پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ پریس کانفرنس میں مرکزی صدر ڈاکٹر رحیق عباسی، ناظم اعلیٰ تنظیمات شیخ زاہد فیاض، جواد حامد،میڈیا ایڈوائزر نوراللہ صدیقی، راجہ زاہد بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے جون میں پاکستان آنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آنے سے قبل لندن میں دہشتگردی کے خلاف لکھی جانے والی اپنی 25کتابوں میں سے 15 کتابوں کی تقریب رونمائی کی تقریب میں شرکت کرونگا۔ 10 کتابیں اردو اور 15 انگریزی اور عربی میں ہیں۔ پاکستان میں آ کر دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے فروغ کیلئے تیار کیے گئے نصاب کی بھی تقریب رونمائی کی تقریب ہو گی۔ یہ نصاب بڑی محنت سے تیار کیا ہے انشاءاللہ تعالیٰ اس سے نوجوان نسل کو دہشت گردی سے دور رہنے کے حوالے سے ترغیب ملے گی۔ انہوں نے جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی سلمان ڈمی کردار ہے جسے فرار بھی انہی حکمرانوں نے کروایا ،ڈاکٹر توقیر شاہ جو سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا اہم کردار ہے اسے ڈبلیو ٹی او میں سفیر بنوادیا گیا۔سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں ملوث تمام ملزمان کو اہم عہدوں پر فائز کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کہتے ہیں مجھے واقعہ کا علم صبح9 بجے ہوا جبکہ ساری شہادتیں 11 بجے کے بعد ہوئیں۔ جے آئی ٹی نے ڈھٹائی کے ساتھ یہ کیسے لکھ دیا کہ وزیراعلیٰ کا واقعہ سے تعلق ثابت نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ڈیل کرنے یا ایسی پیشکش پر غور کرنے اور ڈیل کے جھوٹے الزام لگانے والے پر اللہ کی لعنت ہو، ہمیں خریدنا تو دور کی بات حکمران ہمارے غریب شہید کارکنوں کے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…