منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جمعہ کے خطبات کی نگرانی کا فیصلہ

datetime 27  مئی‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)ملی یکجہتی کونسل نے مذہبی علما ءاور پیش اماموں کی تقاریر میں مذہب اسلام کی وضاحت کو اخلاقیات اور انسانیت کے موضوعات تک محدود کرنے کے لیے مساجد میں جمعہ کے خطبات کی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جمعہ کے خطبات کی نگرانی کا فیصلہ ملی یکجہتی کونسل کے ایک اہم اجلاس کے دوران کیا گیا۔اس منصوبے کے تحت اجلاس کے شرکا نے جمعہ کمیشن، مصالحتی کمیشن، علمی و تحقیقی کمیشن اور اسلامی نظریاتی کونسل کمیشن کے ناموں سے چار کمیٹیاں تشکیل دیں۔ملکی یکجہتی کونسل اور جماعت اسلامی کے سینئر رہنما لیاقت بلوچ نے بتایا کہ جمعہ کے خطبات میں بامقصد پیغامات کے ذریعے فرقہ وارانہ اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک مشن کے تحت کام شروع کردیا ہے۔ جمعہ کی نماز کے اجتماع میں اخلاقیات، انسانیت، تہذیب، خاندانی نظام، ثقافت اور عوامی حقوق کے موضوعات پر تقاریر کی جائیں گی۔مولانا عبدالجلیل نقشبندی کی سربراہی میں قائم جمعہ کمیشن کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس کے اراکین نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مختلف مساجد کا دورہ کریں گے جس کے دوران وہ خاص طور پر مذہبی علما کی تقاریر کا جائزہ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ بات نوٹ کی گئی کہ مذہبی علما ایسے معاملات پر تقاریر کررہے ہیں جو کسی طرح کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے، تو کمیشن کے اراکین فوری طور پر ان کی تقاریر کو اخلاقیات اور انسانیت وغیرہ تک محدود رکھنے کے لیے کہیں گے۔اس کے علاوہ جمعہ کمیشن کے اراکین پیشگی اقدام کے تحت پیش اماموں کو منتخب موضوعات کے بارے میں بریفنگ بھی دیں گے جن پر جمعہ کے خطبات میں بات چیت کی اور مذہبی اور مسلکی تنازعات سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کمیشن کے اراکین فساد پھیلانے والی سرگرمیوں کی نگرانی کے ذریعے مسلم اقلیتوں سمیت تمام اقلیتوں اور ملک میں موجود ان کی عبادتگاہوں کا تحفظ کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…