جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

پرانی کاریں، غریب ملک کے امیروں کا مہنگا شوق

datetime 30  مئی‬‮  2015 |

پاکستان کے امیر طبقے میں کلاسیکی ماڈلز کی قدیم اور نایاب کاریں جمع کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ افغان بادشاہ کی رولز رائس ہو یا بھارت کے آخری وائسرائے کی کار ، ان کے سامنے پیسہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔
پاکستان میں نایاب اور کلاسک کاروں کے کلب کے صدر محسن اکرام کے مطابق کاریں جمع کرنے والے افراد اس خطے میں گزشتہ صدی کی تاریخ کو محفوظ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا‍ تھا کہ پاکستان کے امیر طبقے میں کلاسک کاروں کو خریدنے کا شوق بڑھتا جا رہا ہے اور ان کے کلب کے اراکین کی تعداد دس ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ اس کلب کی طرف سے مختلف ایونٹس کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔

0,,18478212_303,00

ان ایونٹس کے تحت نہ صرف قیمتی اور پرانی کاروں کی نمائش بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں کار ریلیوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ مالکان کو اپنی قیمتیں کاریں منظر عام پر لانے کا موقع مل سکے۔ محسن اکرام کے مطابق اس کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ بیرونی دنیا کی توجہ پاکستان کی طرف مرکوز ہو اور وہ جان سکیں کہ پاکستان ایک ہمہ جہت ملک ہے۔ پاکستانی تاجر راجہ مجاہد ظفر بھی کاروں کے اسی کلب کے رکن ہیں اور وہ اس وقت چالیس کلاسیک کاروں کے مالک ہیں۔ ان میں سے سب سے پرانی کار سن 1914ء کی ہے۔

628x471 (4)

اسلام آباد میں راجہ مجاہد کے شاندار گھر میں کھڑی امریکی فورڈ کمپنی کی اس کار کا ماڈل ٹی ہے۔ مجاہد ظفر نے اپنے شوق کی تسکین کے لیے اپنے گھر میں ایک حصہ مخصوص کر رکھا ہے۔ مجاہد ظفر کا کہنا ہے، ’’آپ تصور میں لائیں کہ سڑک پر اس زمانے کی کار چل رہی ہے، جب یہ خطہ برطانوی کالونی تھا۔ ایسا منظر آپ کو پرانی فلموں ہی میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ وہ تاریخی سفر ہوتا ہے، جسے آپ انجوائے کرتے ہیں۔‘‘

628x471 (1)
تاہم اس مہنگے شوق کا سب سے مشکل مرحلہ ان کاروں کے اسپیئر پارٹس کا حصول ہوتا ہے۔ ان کاروں
کے اسپیئر پارٹس خصوصی طور پر امریکا یا پھر یورپی ملکوں سے منگوائے جاتے ہیں اور اس مقصد کے لیے غیر ملکی اخباروں میں اشتہارات بھی دیے جاتے ہیں۔ چند برس پہلے کراچی کے تاجر کریم چھاپڑا کو اپنی 1924ء کی رولز رائس کے لیے ڈسپلے گھڑی چاہیے تھی، جو انہیں چار سو پاؤنڈز میں لندن سے ملی تھی۔

628x471

 چھاپڑا کی اسی کار کو سن 2012ء میں کویت میں ہونے والے پرانی کاروں کے مقابلے میں پہلا انعام ملا تھا اور 1919ء کی ایک امریکی گاڑی کو دوسرا انعام دیا گیا تھا۔ چھاپڑا کے پاس جو رولز رائس موجود ہے، وہ ماضی میں ریاست بہاولپور کے نواب صادق محمد خان عباسی کی ملکیت رہ چکی ہے۔ تقسیم ہند کے بعد بہاولپور ریاست پاکستان کا حصہ بنی۔ بھارت کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور محمد علی جناح پاکستان کی آزادی کی تقریب میں شرکت کے لیے اسی کار پر سوار ہو کر گئے تھے۔ اس کار کی قیمت تین لاکھ پاؤنڈز بتائی جاتی ہے۔

0,,18478228_401,00
نواب صادق محمد خان عباسی کے پوتے سلیمان عباسی بھی اسی کلب کے ممبر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ نواب صادق محمد خان عباسی کے پاس تقریباﹰ ایک سو کاریں تھیں، جن میں سے زیادہ تر کو نیلامی کے ذریعے فروخت کر دیا گیا تھا۔
محسن اکرام کے مطابق پاکستان میں کلاسک کاروں کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی مالیت تقریباﹰ گیارہ ملین ڈالر ہے۔ یہ مالیت ایک ایسے ملک کے لیے، جہاں کی زیادہ تر آبادی کی یومیہ آمدنی دو ڈالر سے بھی کم ہے،بہت زیادہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…