پاکستان کے صحرائے چولستان سے اُٹھنے والی ’ایکسکیوز می سر‘ کی ایک آواز پانچ ہزار بچوں کو درختوں کے نیچے سے اُٹھا کر کمروں میں لا رہی ہے۔ سورج کی تپش کے ساتھ اِن بچوں کی آنکھ مچولی ختم ہونے جا رہی ہے اور علاقائی تاریخ میں پہلی دفعہ چولستان کے بچوں کو اپنے گاؤں میں اپنے سکول مل رہے ہیں۔یہ آواز مصباح شاہین کی تھی۔ تقریباً ایک سال پہلے تعمیر ہونے والے اپنے پختہ سکول کے برآمدے کے سائے میں بیٹھ کر بیتے دنوں کو یاد کرتی ہیں۔ ’چھاؤں جس طرف جاتی تھی۔ ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے جاتے تھے۔ وہاں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ ایک ہی کمرہ تھا۔ ایک درخت تھا۔ اُس کے نیچے ہم پڑھتے تھے۔ دھوپ لگتی تھی تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے کہ کیسے پڑھیں؟‘تب مصباح پانچویں جماعت میں تھیں۔ انھیں ڈاکٹر بننا ہے اس لیے سکول آنا پڑتا تھا۔مصباح کا سکول دراصل ایک غیر رسمی منصوبے کا حصہ تھا۔
چولستان کی بیٹی نے علاقے کی قسمت بدل ڈالی،کیسے؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
ایران امریکا مذاکرات کا اعلان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت




















































