منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ صفورہ،خاتون کو حراست میں لے لیاگیا، سائیں ہدایات دیتا تھا ،اہم انکشافات

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)سانحہ کراچی بس فائرنگ کیس میں تفتیش کا عمل جاری ہے،پکڑے گئے دہشتگردوں کی معلومات پر سیکیورٹی اداروں کی چھاپہ مارکارروائیاں جاری ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک خاتون کو حراست میں لیا ہے۔گرفتارملزمان نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا ہے کہ سائیں نامی شخص انہیں حیدرآباد سے ہدایات دیتا تھا ۔سکیورٹی ادارے اس بات کا کھوج لگارہے ہیں کہ سانحہ صفوراگوٹھ کراچی کا ماسٹر مائنڈ سائیں کون ہے کہاں ہے اور کس کے لئے کام کرتا ہے؟۔تفصیلات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خفیہ اطلاع پر نارتھ ناظم آباد کے علاقے کوثر نیازی کالونی میں مکان پر چھاپہ مار کر خاتون کو حراست میں لے لیا ہے۔پولیس نے دعویٰ کیاہے کہ حراست میں لی گئی خاتون بس فائرنگ کیس میں ملوث ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والی خاتون کے صفورا واقعے میں ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے، جس پر کارروائی کی گئی۔خاتون کو مزید تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق گرفتارملزمان نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا ہے کہ سائیں نامی شخص انہیں حیدرآباد سے ہدایات دیتا تھا اور ملزمان بھی کراچی میں دہشت گردی کرنے کے بعد حیدرآباد میں روپوش ہوجاتے تھے۔حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد گروپ کے 13 کارندے بیرون ملک فرار ہیں تاہم ان کے 23 ساتھی اب بھی پاکستان میں موجود ہیں ۔ گروپ پولیس اہلکاروں سمیت 150 سے زائد افراد کو قتل کر چکا ہے ۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں نے حیدرآباد میں پہلی واردات کے دوران لطیف آباد میں پولیس پارٹی پر فائرنگ کی تھی ۔ دہشت گردوں نے مختلف اوقات میں ٹریننگ بھی حاصل کی ۔ ابتدائی تفتیش میں گرفتار ملزموں نے انکشاف کیا تھا کہ ان کا تعلق کالعدم تنظیم القاعدہ سے ہے ۔ گرفتاردہشت گرد امریکی شہری ڈیبرالوبو اور سبین محمود کے قتل کے علاوہ بوہری مسجد بم دھماکے میں بھی ملوث ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی میں بے گناہ شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے ملزموں کی جانب سے سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ دوران تفتیش ملزموں سے برآمد ہونے والے موبائل فونز میں جدید ترین سافٹ ویئر ٹاک رے ایپلی کیشنز انسٹال تھیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اس جدید ترین ایپلی کیشن کی مدد سے موبائل فون کو واکی ٹاکی میں بدلا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ سپیڈ کم ہو تو بھی ٹاک رے بہترین نتائج دیتا ہے۔ بات کرنے والے کی لوکیشن بھی ظاہر نہیں ہوتی تاہم پاکستان میں اس کا استعمال عام نہیں ہے۔ گرفتار ملزموں نے دوران تفتیش حملے کی ویڈیو ریکارڈنگ کا انکشاف بھی کیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ پولیس یہ ریکارڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب رہی یا نہیں۔ پولیس کے مطابق ملزموں نے اپنی موٹر سائیکلوں میں پستول چھپانے کیلئے سیٹوں کے نیچے خصوصی خانے بنا رکھے تھے اسی وجہ سے پکڑے نہیں گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…