ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

جیب کتروں کی وجہ سے آئفل ٹاور بند

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )پیرس میں واقع مشہور آئفل ٹاور کو اس وقت بند کر دیا گیا جب اس کے عملے نے وہاں جیب کتروں کے گروہوں میں اضافے پر احتجاجاً واک آو¿ٹ کر دیا۔
کارکن کہتے ہیں کہ ان پر ان جیب کتروں کی جانب سے حملوں اور گالی گلوچ کر کے دھمکانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس سیاحتی مقام کی منتظم کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ مل کر سٹاف اور پبلک کی سکیورٹی کے متعلق پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں لیکن کمپنی کو اس بات پر افسوس ہے کہ سیاحوں کو اس کی سزا مل رہی ہے۔126 سال پرانا لوہے کا یہ مینار پیرس کا جگمگاتا ہوا نشان ہے۔سٹاف کا کہنا ہے کہ کمپنی کی انتظامیہ انھیں رسمی طور پر ضمانت دے کہ جیب کتروں کے گروہوں کو روکے گی جو روزانہ کئی سیاحوں کو نشانہ بناتے ہیں۔احتجاج کرنے والے عملے کے ایک رکن نے کہا کہ چور چار سے پانچ افراد کا گینگ بناتے ہیں اور کبھی کبھار تو ٹاور کے گرد 30 افراد تک جمع ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ آپس میں لڑنے لگتے ہیں۔ ایک اور احتجاج کرنے والے نے کہا کہ ایک جیب کترے کا پیچھا کرتے ہوئے اسے بھی دھمکایا گیا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ تم ہمیں کام کیوں نہیں کرنے دیتے۔۔۔ اگر (دخل اندازی) جاری رہی تو تمہارے لیے مشکل ہو جائے گی۔ اپریل 2013 میں بھی اس وقت اسی طرح کی بندش ہوئی تھی جب لوو آرٹ گیلری کو بند کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ جیب کترے سٹاف کو نہ صرف ہراساں کرتے تھے بلکہ ان پر حملہ کرتے تھے۔اس کے بعد میوزیم کے حفاظت کے لیے مزید پولیس بھیج دی گئی۔ اس میوزیم کو ہر سال ایک کروڑ افراد دیکھتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پیرس میں 2014 میں دو کروڑ 20 لاکھ سیاح آئے تھے۔ اور یہ دنیا کے سب سے اہم سیاحتی مقامات میں سے ایک ہونے کے باوجود جیب کتروں اور چال بازوں کا گڑھ ہے جو کہ امیر ایشیائی سیاحوں کو لوٹتے ہیں۔اخبار لبریشن نے جمعے کو رپورٹ کیا تھا کہ تمام گرمیوں میں جیب کتروں کے خطرے کے پیشِ نظر شہر میں 26,000 پولیس اور میونسیپل ایجنٹوں کو تعینات کیا جائے گا۔ٹاور کو اب سنیچر کو دوبارہ کھولا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…