منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

غزہ بے روز گار نوجوان کمپیوٹر ہیکنگ کے ذریعے پیسہ کمانے میں مصروف

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) غزہ پٹی کے صرف چالیس کلومیٹر طویل اور دَس کلومیٹر چوڑے علاقے میں اٹھارہ لاکھ فلسطینی ایک طرح سے قید میں ہیں۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب غزہ کے کئی شہری کمپیوٹر ہیکنگ کے ذریعے پیسہ کمانے میں مصروف ہیں۔ غزہ کے ہیکرز نے بتایا کہ اگر داو¿ اچھا لگ جائے تو کئی ہیکر پچاس ہزار ڈالر ماہانہ تک بھی کما لیتے ہیں غزہ پٹی میں بے روزگاری کی شرح پچاس فیصد ہے اور ملازمتیں ملنا انتہائی مشکل ہے۔ ایسے میں کمپیوٹر کی مہارت رکھنے والے فلسطینیوں نے پیسہ کمانے کا ایک نیا ذریعہ تلاش کر لیا ہے۔یہ لوگ زیادہ تر انٹرنیٹ کے ذریعے کی جانے والی ٹیلیفون کالوں کو ہیک کرتے ہیں۔ یہ وہ فون کالز ہیں، جو وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (VoIP) کے ذریعے گزشتہ چند برسوں سے باقاعدگی کے ساتھ کی جانے لگی ہیں۔نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنے ایک جائزے میں بتایا ہے کہ وائپ نیٹ ورکس کو ہیک کرنے کے کئی طریقے ہیں تاہم غزہ میں اس طرح کی ہیکنگ سے واقف لوگ بتاتے ہیں کہ ہیکرز مخصوص سرورز کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ آئی پی (IP) پتے حاصل کرتے ہیں۔ ا±ن کی کوشش ہوتی ہے کہ خاص طور پر بڑے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں کے پتے حاصل کریں۔ان پتوں کے حصول کے بعد ممکنہ آئی ڈی (صارف کا نام) اور پاس ورڈ آزمانے کا ایک صبر آزما مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ چونکہ لوگوں کو ڈیفالٹ کوائف بدل دینے کی زیادہ عادت نہیں ہوتی، اس لیے اِ? ہیکرز کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا اور وہ جلد ہی ان اکاو¿نٹس تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے، جب یہ اکاو¿نٹ اور اس سے جڑی رقم پوری طرح سے ہیکر کے کنٹرول میں چلی جاتی ہے۔غزہ میں بیروزگار نوجوانوں کی شرح پچاس فیصد تک پہنچی ہوئی ہے: آخر ہم کریں کیا؟ مر جائیں یا پھر زندہ رہنے کا کوئی طریقہ تلاش کریں؟ تب یہ ہیکرز یا تو اپنی معلومات کسی تیسری پارٹی کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں، جو عام طور پر قانونی طریقے سے کاروبار کرنے والی کوئی کمپنی ہوتی ہے اور یا پھر وہ وائپ استعمال کرنے والے کسی اور فریق کو بیچ دیتے ہیں اور الیکٹرانک ٹرانسفر کے ذریعے اپنی رقم وصول کر لیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…