منگل‬‮ ، 14 جولائی‬‮ 2026 

غزہ بے روز گار نوجوان کمپیوٹر ہیکنگ کے ذریعے پیسہ کمانے میں مصروف

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) غزہ پٹی کے صرف چالیس کلومیٹر طویل اور دَس کلومیٹر چوڑے علاقے میں اٹھارہ لاکھ فلسطینی ایک طرح سے قید میں ہیں۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب غزہ کے کئی شہری کمپیوٹر ہیکنگ کے ذریعے پیسہ کمانے میں مصروف ہیں۔ غزہ کے ہیکرز نے بتایا کہ اگر داو¿ اچھا لگ جائے تو کئی ہیکر پچاس ہزار ڈالر ماہانہ تک بھی کما لیتے ہیں غزہ پٹی میں بے روزگاری کی شرح پچاس فیصد ہے اور ملازمتیں ملنا انتہائی مشکل ہے۔ ایسے میں کمپیوٹر کی مہارت رکھنے والے فلسطینیوں نے پیسہ کمانے کا ایک نیا ذریعہ تلاش کر لیا ہے۔یہ لوگ زیادہ تر انٹرنیٹ کے ذریعے کی جانے والی ٹیلیفون کالوں کو ہیک کرتے ہیں۔ یہ وہ فون کالز ہیں، جو وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (VoIP) کے ذریعے گزشتہ چند برسوں سے باقاعدگی کے ساتھ کی جانے لگی ہیں۔نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنے ایک جائزے میں بتایا ہے کہ وائپ نیٹ ورکس کو ہیک کرنے کے کئی طریقے ہیں تاہم غزہ میں اس طرح کی ہیکنگ سے واقف لوگ بتاتے ہیں کہ ہیکرز مخصوص سرورز کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ آئی پی (IP) پتے حاصل کرتے ہیں۔ ا±ن کی کوشش ہوتی ہے کہ خاص طور پر بڑے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں کے پتے حاصل کریں۔ان پتوں کے حصول کے بعد ممکنہ آئی ڈی (صارف کا نام) اور پاس ورڈ آزمانے کا ایک صبر آزما مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ چونکہ لوگوں کو ڈیفالٹ کوائف بدل دینے کی زیادہ عادت نہیں ہوتی، اس لیے اِ? ہیکرز کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا اور وہ جلد ہی ان اکاو¿نٹس تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے، جب یہ اکاو¿نٹ اور اس سے جڑی رقم پوری طرح سے ہیکر کے کنٹرول میں چلی جاتی ہے۔غزہ میں بیروزگار نوجوانوں کی شرح پچاس فیصد تک پہنچی ہوئی ہے: آخر ہم کریں کیا؟ مر جائیں یا پھر زندہ رہنے کا کوئی طریقہ تلاش کریں؟ تب یہ ہیکرز یا تو اپنی معلومات کسی تیسری پارٹی کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں، جو عام طور پر قانونی طریقے سے کاروبار کرنے والی کوئی کمپنی ہوتی ہے اور یا پھر وہ وائپ استعمال کرنے والے کسی اور فریق کو بیچ دیتے ہیں اور الیکٹرانک ٹرانسفر کے ذریعے اپنی رقم وصول کر لیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…