ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

کابل، حکومتی دفتر پر شدت پسندوں کا حملہ، شدید لڑائی جاری،بڑی تعداد میں لوگ یرغمال بنالئے گئے‎

datetime 25  دسمبر‬‮  2018 |

کابل(آئی این پی) افغانستان میں شدت پسندوں نے کار بم دھماکا کرنے کے بعد دارالحکومت کابل میں حکومتی دفتر پر حملہ کردیا جس میں متعدد افراد زخمی ہو گئے اور عمارت پر اب بھی ان کا قبضہ برقرار ہے جس کے سبب ہلاکتوں کا بھی اندیشہ ہے۔وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی نے کہا کہ جدید ہتھیاروں سے لیس متعدد حملہ آوروں نے اس کمپانڈ پر حملہ کیا جس میں وزارت پبلک ورکس سمیت دیگر دفاتر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہو گئے جس میں تین سیکیورٹی اہلکار اور چار شہری شامل ہیں۔البتہ وزارت صحت نے دعوی کیا کہ صرف ایک ہسپتال میں لے جائے جانے والے زخمیوں کی تعداد 16 ہے۔رحیمی نے کہا کہ افغان فورسز نے اب تک 3 حملہ آوروں کو مار دیا ہے اور کمپانڈ میں پھنسے تقریبا 300 افراد کو شدت پسندوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے جبکہ ایک شدت پسند کار بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا۔نصرت رحیمی نے کہا کہ اب بھی چند افراد کو شدت پسندوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے اور انہیں چھڑانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ہسپتال میں موجود فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا کہ حملہ آوروں سے بچنے کے لیے ایک زخمی شہری نے عمارت کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی جس سے اس کی متعدد ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔دوپہر میں کار بم دھماکے سے شروع ہونے والے اس حملے کی ذمے داری اب تک کسی نے بھی قبول نہیں کی جبکہ اس کے بعد ایک اور دھماکا بھی ہوا جس کی نوعیت کا تعین نہیں کیا جا سکا۔حملے کی زد میں آنے والے کمپانڈ سے دھواں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ عمارت کے اوپر دو ہیلی کاپٹر بھی گشت کر رہے ہیں۔وزارت پبلک ورکس میں کام کرنے والے ایک ملازم اور ایک عینی شاہد اشرف نے بتایا کہ حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…