پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان اورچین کا بڑھتا ہوا دفاعی تعاون،سی پیک کے تحت کیا ہورہاہے؟امریکی اخبار نے سنگین دعویٰ کردیا، چین کا شدیدردعمل

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

بیجنگ (این این آئی)چین نے سی پیک کے بارے میں امریکی اخبار کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ سی پیک کا دونوں ممالک کے دفاعی تعاون سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران وزارت خارجہ کی ترجمان ہواچن ینگ نے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا۔دوسری جانب چینی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان ژاؤ نے بھی سی پیک پر نیویارک ٹائمز کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مغربی ممالک ہیں جنہوں نے پاکستان کو قرضوں کے جال میں پھنسا دیا ہے ٗ

چین پاکستان کو قرضوں کے جال سے نکالنے کے لیے یقین دہانی کرا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر 95ارب ڈالر کے بین الاقوامی قرضوں میں سے چین کا صرف چھ ارب ڈالر کا قرضہ ہے۔انہوں نے ان اعدادوشمار کو بھی مسترد کردیا کہ چین کا قرضہ 23ارب ڈالر ہے چینی سفارتکار نے حقائق اور اعدادو شمار کی روشنی میں بات چیت کرتے ہوئے سی پیک کے بارے میں پاکستانی قرضوں کے حوالے سے مغربی حلقوں کے پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام نے سی پیک کے خلاف منفی پراپیگنڈا مسترد کردیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اس منصوبے کو پورے جوش وخروش کے ساتھ مکمل کرے کیونکہ یہ ملک کی ترقی وخوشحالی کے ساتھ وابستہ ہے۔ملک پر قرضوں کے بوجھ میں اضافے کے بجائے چینی سرمایہ کاری اور قرضے سی پیک کے فریم ورک کے تحت پاکستان کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دیں گے۔جنہوں نے اس کی معاشی ،صنعتی اور زرعی ترقی میں رکاوٹیں پیدا کررکھی ہیں۔چینی قرضے پاکستانی پیداوار میں اضافے اور ملکی قرضے ادا کرنے کی اہلیت کو بہتر بنائیں گے۔چند مغربی ممالک کے برعکس چین تعاون یا امداد کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالتا کیونکہ اس کے معاون فریم ورک کا مقصداس ملک کے عام آدمی کا طرز زندگی بہتر بنانا ہے۔ادھر چین کے ایکاخبار گلوبل ٹائمز نے اپنی حالیہ اشاعت میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات معمول کا عمل ہے جسے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے یا سی پیک کے ساتھ منسلک نہیں کرنا چاہیے۔

اخبار نے چین پاکستان تعلقات کی گہرائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ تعلقات سی پیک اور بی آر آئی سے بالاتر ہیں۔اپنے مضمون میں اخبارنے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کا چین کے ساتھ فوجی رابطہ سٹریٹیجک شراکت داری کا حصہ ہے ۔جسے سی پیک یا بی آر آئی کے ساتھ محدود نہیں کیا جاسکتا دفاعی تعاون کے حوالے اور فوجی پہلو سے کسی قسم کے فنڈز مخصوص نہیں کیے گئے اور نہ ہی سی پیک کے تحت اس سلسلے میں کوئی طویل المیعاد منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ہم جوکوئی دفاعی تعاون آج کل دیکھتے ہیں اس کی ایک تاریخ ہے اور اسے سی پیک اور بی آر آئی سے الگ کرکے دیکھنا چاہیے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…