امریکہ میں چینی جاسوسوں کا ایک کیس منظرعام پر آیا ہے۔ کچھ کے خیال میں یہ ایک انتہائی تاریک اور خوفناک مسئلہ ہے جب کہ کچھ کے خیال میں اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔سنیچر کو تیاجن یونیورسٹی کے 36 سالہ پروفیسر ہاؤ ژینگ لاس اینجلس پہنچے تھے۔ انھیں ایئر پورٹ پر اقتصادی جاسوسی اور تجارتی راز چرانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ایک سابق سینیئر انٹیلی جنس اہلکار کا کہنا تھا: ’شاباش، ایف بی آئی۔‘ انھوں نے اسے ایک ’متاثر کن کیس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی حکام کی چین کی جاسوسی کو روکنے کی کوششیں ظاہر ہوتی ہیں۔وہ کہتے ہیں: ’یہ صرف ایک مقدمہ ہے، یہ اقتصادی جاسوسی کی پوری تصویر کا صرف ایک حصہ ہے۔‘کچھ افراد بددلی سے چینی جاسوسوں کی تعریف بھی کر ہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے شعبے کے ایک سابق اہلکارگورڈن ایڈمز کا کہنا ہے: ’وہ بہت جامع ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ممالک ہمیشہ سے ایک دوسرے کی جاسوسی کرتے رہتے ہیں۔ ایسا تسلسل کے ساتھ ہوتا ہے۔‘کئی سال پہلے چین کی حکومت کے لیے کام کرنے والے ایجنٹس نے بظاہر امریکی میزائل ٹرائیڈنٹ کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں، جیسا کہ ڈیوڈ وائز نے اپنی کتاب ٹائیگر ٹریپ میں لکھا ہے۔




















































