بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

اردو رائج کیس ،سپریم کورٹ نے حکومت پر 10 ہزار جرمانہ کر دیا ، 2 دن میں جواب طلب

datetime 20  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ نے قومی زبان اردو کو قانون کے مطابق رائج کرنے کے حوالے سے جواب نہ دینے پر وفاقی حکومت پر دس ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت بجٹ بنا رہی ہے اس لئے کم جرمانہ کیا ہے وفاقی حکومت دو دنوں میں جواب داخل کرائے جبکہ صوبوں کو صوبائی زبانوں کی ترویج اشاعت کے بارے میں جواب کیلئے دو جون تک مہلت دے دی ہے ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وفاقی حکومت کا اردو کے حوالے سے رویہ غیر سنجیدہ ہے 1973ءکا آئین بنانے والے نظریاتی اور بڑے لوگ تھے طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں مگر مفادات والوں نے ان کی زبان بندی کررکھی ہے ۔ ایوان اقتدار سنبھالنے والے صرف انگریزی جانتے ہیں 1971ءمیں بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا تب بھی وہاں سائن بورڈ بنگالی میں نہیں بنائے جاتے تھے ۔ انہوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روز دیئے ہیں ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی درخواست گزار کوکب اقبال ، ڈپٹی اٹارنی جنرل اور چاروں ایڈووکیٹ جنرل کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے وفاقی حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ جواب داخل نہیں کراسکے کیونکہ وفاقی حکومت اس وقت بجٹ بنانے میں مصروف ہے اس پر جسٹس جواد نے کہا کہ بجٹ عوام کے لیے ہوتا ہے اور یہ مقدمہ بھی عوام کے لیے ہے لہذا اس پر بھی توجہ دے دی جاتی تو کیا ہرج تھا ۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو جرمانہ عائد کردیا ۔ صوبوں نے اس دوران جواب کے لئے مہلت مانگی درخواست گزار کوکب اقبال نے کہا کہ ہر کام میں انگریزی رکاوٹ ہے مقابلے کے امتحان میں سب سے بڑی رکاوٹ انگریزی بن کر رہ گئی ہے کیونکہ اسلامیات تک کا پرچہ انگریزی میں لیا جاتا ہے بعد ازاں عدالت نے حکم نامہ تحریر کراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تاریخ پر صوبائی حکومتوں کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا ان کے نمائندگان پیش ہوئے اور مہلت کی استدعا کی تاکہ وہ صوبوں میں وہاں کی قربانیوں کی ترویج کیلئے اقدامات بارے رپورٹ عدالت میں جمع کرواسکیں یہ ذمہ داری وفاق اور صوبوں دونوں پر ہے وفاق دو روز میں جبکہ صوبے دو جون تک رپورٹ جمع کروائیں بعد ازاں کیس کی سماعت دو جون تک ملتوی کردی گئی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…