اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے بعد چین نے بھی افغانستان میں پنجے گاڑنے شروع کر دئیے،دونوں ممالک مل کر کونسے شاندار منصوبے شروع کرنیوالے ہیں، امریکہ اور بھارت کے ہوش اڑ گئے

datetime 15  دسمبر‬‮  2018 |

کابل(آئی این پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ، افغانستان کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار ہے،خطے کی خوشحالی کیلئے تینوں ممالک کا مل کر کام کرنا ضروری ہے ، بہتر سرحدی نظام سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو فائدہ ہوگا ،کابل اور لوگر میں جلد ہسپتال کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں ، دونوں اسپتال پاکستان کی جانب سے افغان عوام کیلئے تحفہ ہیں، پاکستان شروع

سے افغانستان میں حصول امن مذاکرات کا حامی رہا ہے،افغانستان کی صورتحال سے پاکستان بہت زیادہ متاثر ہوا،، فورم پشاور کابل موٹروے اور کوئٹہ قندھار ریلوے لائن بنانے کیلئے اہم ہے،چین کی جانب سے سہ ملکی مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہے، چین اور پاکستان دونوں افغانستان کی بہتری اور امن و استحکام چاہتے ہیں۔ہفتہ کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سہ فریقی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سہ فریقی تعاون اس سلسلے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے ، پاکستان ، افغانستان کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار ہے ، پاک چین اور افغانستان کی معیشت آپس میں جڑی ہوئی ہے ، پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سرحدی نظام سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو فائدہ ہوگا ، ہمیں تعاون بڑھانے اور انٹیلی جنس روابط بڑھانے کی ضرورت ہے ، دہشت گردی کے چیلنج کا بہترین حل روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ترقی ہے ،چالیس سال سے افغانستان جنگ وجدل کا شکار ہے ، افغانستان کی صورتحال سے پاکستان بہت زیادہ متاثر ہوا،ہمیشہ افغان قیادت کی سربراہی میں مذاکرات کی حمایت کی ، تینوں ممالک کے باشندوں کے درمیان گہرے روابط ہیں ، خطے کی خوشحالی کیلئے تینوں ممالک کا مل کر کام کرنا ضروری ہے ، بہتر سرحدی نظام سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو فائدہ ہوگا ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ تین ماہ میں کابل کا یہ

دوسرا دورہ ہے ، افغان صدر کے طالبان کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہیں ، افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں ، کابل اور لوگر میں جلد ہسپتال کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں ، دونوں اسپتال پاکستان کی جانب سے افغان عوام کیلئے تحفہ ہیں ، اب دنیا ہمارے مذاکرات کے موقف کی تائید کرتی ہے ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیاسی معاونت بروئے کار لا کر

افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار کی جائے ، افغانستان میں قیام امن خطے کی معاشی ترقی اور سلامتی کیلئے ناگزیر ہے ، پاکستان شروع سے افغانستان میں حصول امن مذاکرات کا حامی رہا ہے ، سہ فریقی مذاکرات کا مقصد الزام تراشی اور منفی بیان بازی سے گریز کرنا ہے ، انسداد دہشت گردی ، سیکیورٹی ، بارڈر منیجمنٹ کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی ہے ، معلومات کے تبادلے سے باہمی معاونت کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے ، فورم پشاور کابل موٹروے اور کوئٹہ قندھار ریلوے لائن بنانے کیلئے اہم ہے ۔ قبل ازیں کابل روانگی سے قبل شاہ محمود قریشی نے کہاکہ چین کی جانب سے سہ ملکی مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہے۔ چین اور پاکستان دونوں افغانستان کی بہتری اور وہاں امن و استحکام چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…