اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم کی ہر تقریر سے ایک نیا بحران ،عمران خان صرف یہ ایک کام کرلیں ،ملک کے اندر استحکام بھی آ جائے گا اور یہ پورا میڈیا بھی پازیٹو ہو جائے گا،اعظم سواتی کے بعد اب کون استعفیٰ دے گا؟ جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 6  دسمبر‬‮  2018 |

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے آج میڈیا کو ایک بہت اچھا مشورہ دیا‘ یہ اچھا مشورہ ہے‘ واقعی میڈیا اگرچھ ماہ تک صرف پاکستان کی ترقی دکھائے تو ملک شاید بہت آگے نکل جائے گا‘ میڈیا یہ کرنا بھی چاہتا ہے ۔۔لیکن وزیراعظم صاحب میڈیا کو یہ کرنے نہیں دے رہے‘ آپ عمران خان کی وکٹری سپیچ سے لے کر آج اپنی اقتصادی ٹیم کی تعریف تک 125 دن کا ڈیٹا دیکھ لیجئے‘

آپ کو وزیراعظم کی ہر تقریر سے ایک نیا بحران پیدا ہوتا نظر آئے گا‘ میڈیا حقیقتاً سمجھ دار اور محب وطن ہے‘ اس نے آج تک پی ٹی ایم کی کوئی خبر‘ کوئی تقریر حتیٰ کہ کوئی ٹکر تک نہیں چلایا‘ 23 نومبر کے حملوں اور گھیراؤ جلاؤ کی کوئی خبر بھی کسی چینل پر نہیں دکھائی گئی‘ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی بھی حکومت کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کر رہی‘ صرف مولانا فضل الرحمن مظاہرے کر رہے ہیں لیکن میڈیا انہیں بھی کوریج نہیں دے رہا‘ میڈیا صرف اور صرف حکومت اور وزیراعظم کو دکھاتا ہے چنانچہ ملک کی اب تک کی جو بھی تصویر ہے یہ اچھی ہے یا بری ہے حکومت اور وزیراعظم کی پیش کر دی ہے‘ میری درخواست ہے۔ اس ملک سے محبت کرنے والے ہر شخص کو خواہ وہ میں ہوں‘ پورا میڈیا ہو یا پھر جنرل آصف غفور ہوں اسے وزیراعظم سے درخواست کرنی چاہیے آپ چھ ماہ تک صرف کام کریں‘ آپ قوم سے کوئی خطاب‘ کوئی تقریر اور کوئی میڈیا انٹرایکشن نہ کریں‘آپ بس خاموش رہیں‘ آپ یقین کیجئے ملک کے اندر استحکام بھی آ جائے گا اور یہ پورا میڈیا بھی پازیٹو ہو جائے گا۔ ملک کے پہلے مسئلے حل نہیں ہوئے لیکن حکومت نے ایک نیا تنازعہ چھیڑ دیا،کیا حکومت واقعی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ملک چلانا چاہتی ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ کل چیف جسٹس نے فرمایا تھا، عدلیہ228تعلیم228دیانتدار قیادت، ہم یہ تینوں ٹارگٹ کیسے اچیو کر سکتے ہیں اور اعظم سواتی نے استعفیٰ دے دیا اور ذلفی بخاری کسی بھی وقت استعفیٰ دے دیں گے‘ کیا اس سے حکومت کا امیج ٹھیک ہو جائے گا‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…