جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

زلفی بخاری تقرری معاملہ!!آپ کو افسوس ہے تو ہوتا رہے، آپ کیلئے عدالتی نظام نہیں بدل سکتا، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس پرافسوس کا اظہارکرنے پر وزیراعظم عمران خان کو کرارا جواب دیدیا

datetime 5  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے مشیر برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا تقرر قانون کے تحت ہوا یا نہیں۔ بدھ ک سپریم کورٹ میں زلفی بخاری کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ان کی جانب سے اعتزاز احسن بطور وکیل پیش ہوئے اس موقع پر

درخواست گزار عادل چھٹہ نے استدعا کی کہ میرے وکیل علاج کیلئے امریکا گئے ہیں اس لیے سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کی جائے۔وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ زلفی بخاری معاون خصوصی ہے رکن اسمبلی نہیں جن کا پروفائل عدالت میں پیش کر دیا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا زلفی بخاری پاکستان میں کب متعارف ہوئے، لائم لائٹ میں کب آئے جس پر اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ زلفی بخاری لندن میں پاکستانی کمیونٹی میں بہت متحرک رہے ہیں، حکومت کے پہلے 100 دن میں اس نوجوان نے بہترین کارکردگی دکھائی۔وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ زلفی بخاری نے تعیناتی سے اب تک ساری تنخواہ ڈیم فنڈ میں دی ہے جس پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا یہ تو بہت اچھا کیا۔اس موقع پر درخواست گزار عادل چھٹہ نے کہا کہ کہنے کو یہ وزیراعظم کے مشیر برائے بیرون ملک پاکستانیز ہیں لیکن یہ ای او بی آئی کے بورڈ کی میٹنگز میں بھی بیٹھتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل کو حکومت کو بھگتنا ہے کہ کتنے اچھے لوگ لگائے اور کتنے نہیں، ہمارا اس سے تعلق نہیں، ہم تو صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا تقرر قانون کے تحت ہوا یا نہیں۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر تقرری میں اقرباء پروری ہوگی تو ضرور عدالتی جائزہ لیں گے، ایک فیصلے میں لفظ اقرباء پروری استعمال کیا تو بہت لے دے ہوئی، کسی کو افسوس ہوا ہے

تو اس کے لیے عدالتی نظام میں تبدیلی نہیں کر سکتے۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا کام انتظامیہ کی تضحیک کرنا نہیں، غالباً کسی نے ان کو بتایا ہی نہیں کہ یہ مقدمہ کووارنٹو کا ہے، اقربا پروری تو ایک گراؤنڈ کے طور پر زیر بحث آیا تھا جب کہ درخواست گزار نے تو اقربا پروری کا ایشو اٹھایا ہی نہیں تھا۔واضح رہے کہ دو روز قبل عمران خان نے سینئر اینکرز کو دئیے گئے

اپنے انٹرویو میں چیف جسٹس کے زلفی بخاری کی تقرری معاملے میں ریمارکس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی اقربا پروری نہیں کی۔ انہوں نے نمل یونیورسٹی بنائی، شوکت خانم کینسر ہسپتال بنایا، کرکٹ کپتان رہے، خیبرپختونخواہ میں ان کی پارٹی کی گزشتہ 5سال حکومت رہی کوئی بتادے کہ اپنے کسی رشتہ دار یا قریبی کو ایک ذرا بھی فائدہ پہنچایا ہو، عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اقربا پروری نہیں کی انہیں اس حوالے سے چیف جسٹس کے ریمارکس پر افسوس ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…