منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ذوالفقارمرزا نے وصیت نامہ جمع کرادیا ،کچھ ہوا تو کون ذمہ دار ہوگا،نام بتادیئے

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)سندھ کے سابق وزیرداخلہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے باغی رہنما ڈاکٹر ذوالفقارمرز نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں اپنا وصیت نامہ جمع کرادیا ہے۔ ڈاکٹرذوالفقارمرزا منگل کی صبح انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش ہوئے۔انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بشیرکھوسونے ان کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ان کی ضمانت میں30 مئی تک کی توسیع کردی ہے۔جبکہ متفرق درخواستوں کی سماعت 25 مئی کو ہو گی۔ ذوالفقارمرزانے کہاکہ ضمانت میں توسیع کے باوجود پولیس انہیں گرفتارکرنے کی کوشش کررہی ہے۔انہوں نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں اپنا وصیت نامہ جمع کرایا جس کے مطابق اگر انہیں کچھ ہوا توا اس کے ذمہ دار سابق صدر آصف علی زرداری ، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور ،وزیراعلیٰ سندھ اور چند صوبائی وزرا ہوں گے جن کے نام وصیت نامے میں درج کئے گئے ہیں۔سابق وزیرداخلہ نے خدشہ ظاہرکیاکہ انہیں گرفتارکرکے قتل کردیا جائے گا۔ذوالفقار مرزا نے ایک موبائل فون کے ذریعے اپنے وصیت نامے کو ویڈیو پیغام کی شکل میں بھی ریکارڈ کرایا ہے۔بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ذوالفقار مرزا نے کہا کہ میں عدالتوں سے بھاگنا نہیں چاہتا، جانتا ہوں کہ عدالت کس طرح آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اور الطاف حسین کی طرح را کا ایجنٹ نہیں ،سچا پاکستانی ہوں مقدمات سے بھاگنے کے بجائے ان کا سامنا کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وصیت میں لکھ دیا ہے کہ اگر انہیں کچھ ہو جائے توسابق صدر آصف زرداری ،وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ اور فریال تالپور کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ ایف آئی آر میں آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کو بھی نامزد کیا جائے جو آصف زرداری سندھ کو خوش کرنے کے چکرمیں ہیں۔ انسداد دہشتگردی عدالت میں ذوالفقارمرزا کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ذوالفقارمرزاسندھ ہائیکورٹ کے راستے انسداد دہشتگردی عدالت پہنچے اور کہا کہ میرے قتل کا منصوبہ بنایا گیا تھا اسلئے راستہ بدلناپڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…