ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

طالبہ نے یونیورسٹی پر مقدمہ کردیا

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

نیویارک سٹی(نیوزڈیسک) اگر کوئی طالب علم امتحان میں فیل ہوجاتا ہے تو کیا اس کی ذمے داری اس ادارے پر عائد ہوتی ہے جہاں وہ زیر تعلیم ہے؟ یقیناً نہیں، مگر امریکا میں ایک طالبہ نے اپنی ناکامی کا ذمہ دار یونی ورسٹی کو ٹھہراتے ہوئے اس پر مقدمہ کردیا ہے۔جینیفر بربیلا نامی طالبہ لوزرین کاو¿نٹی میں واقع مسیریکور ڈیا یونی ورسٹی کے نرسنگ اسکول کی طالبہ تھی۔ مسلسل دو بار امتحانات میں فیل ہونے کے بعد جینیفر نے یونی ورسٹی انتظامیہ کو عدالت میں گھسیٹ لیا ہے۔ جینیفر کے وکیل نے عدالت میں داخل کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی موکل ذہنی اضطراب، ڈپریشن، اور اسٹریس جیسے امراض کا شکار رہی۔ امریکا کے ڈس ایبیلٹی ایکٹ اف 1973ئ کے سیکشن 504کے تحت ان امراض میں مبتلا فرد معذور شمار ہوتا ہے، اور یہ اس کا حق ہے کہ اس کے لیے تعلیمی ادارے اور جائے کار پر ضروری سہولتیں مہیا کی جائیں۔درخواست کے مطابق بربیلا نے انتظامیہ سے پرچا حل کرنے کے لیے اضافی وقت کے علاوہ دوران امتحان پروفیسر کی معاونت فراہم کیے جانے کی بھی استدعا کی مگر اسے یہ ’ سہولتیں‘ مہیا نہیں کی گئیں۔ اور ایسا ایک نہیں، دو بار ہوا۔ انتظامیہ کے ’ عدم تعاون‘ کی وجہ سے مدعی نرسنگ کے امتحان میں دو بار فیل ہوگئی۔جینیفر نے امتحان میں ناکامی کا ذمے دار یونی ورسٹی انتظامیہ کو ٹھہراتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسے 75000 ڈالر ہرجانہ دلوایا جائے۔ تاہم جینیفر کے وکیل کا کہنا ہے کہ جینیفر کو ہرجانے کی وصولی سے زیادہ تیسری بار امتحان دینے میں دل چسپی ہے۔ مسیریکورڈیا یونی ورسٹی میں طلبا کی رجسٹریشن دو سال کے لیے ہوتی ہے۔ اس طرح جینیفر کی رجسٹریشن ختم ہوچکی ہے اور وہ تیسری بار امتحان دے کر نرسنگ کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی خواہش مند ہے۔وکیل کا کہنا ہے کہ جینیفر کو یونی ورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تمام سہولتوں کے ساتھ امتحان دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس کے باوجود بھی اگر وہ فیل ہوتی ہے تو پھر یہ اس کی نااہلی تصور کی جائے گی۔مسیریکور ڈیا یونی ورسٹی کی انتظامیہ نے اس منفرد مقدمے کے بارے میں یونی ورسٹی کا موقف دینے سے انکار کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…