منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

طالبہ نے یونیورسٹی پر مقدمہ کردیا

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

نیویارک سٹی(نیوزڈیسک) اگر کوئی طالب علم امتحان میں فیل ہوجاتا ہے تو کیا اس کی ذمے داری اس ادارے پر عائد ہوتی ہے جہاں وہ زیر تعلیم ہے؟ یقیناً نہیں، مگر امریکا میں ایک طالبہ نے اپنی ناکامی کا ذمہ دار یونی ورسٹی کو ٹھہراتے ہوئے اس پر مقدمہ کردیا ہے۔جینیفر بربیلا نامی طالبہ لوزرین کاو¿نٹی میں واقع مسیریکور ڈیا یونی ورسٹی کے نرسنگ اسکول کی طالبہ تھی۔ مسلسل دو بار امتحانات میں فیل ہونے کے بعد جینیفر نے یونی ورسٹی انتظامیہ کو عدالت میں گھسیٹ لیا ہے۔ جینیفر کے وکیل نے عدالت میں داخل کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی موکل ذہنی اضطراب، ڈپریشن، اور اسٹریس جیسے امراض کا شکار رہی۔ امریکا کے ڈس ایبیلٹی ایکٹ اف 1973ئ کے سیکشن 504کے تحت ان امراض میں مبتلا فرد معذور شمار ہوتا ہے، اور یہ اس کا حق ہے کہ اس کے لیے تعلیمی ادارے اور جائے کار پر ضروری سہولتیں مہیا کی جائیں۔درخواست کے مطابق بربیلا نے انتظامیہ سے پرچا حل کرنے کے لیے اضافی وقت کے علاوہ دوران امتحان پروفیسر کی معاونت فراہم کیے جانے کی بھی استدعا کی مگر اسے یہ ’ سہولتیں‘ مہیا نہیں کی گئیں۔ اور ایسا ایک نہیں، دو بار ہوا۔ انتظامیہ کے ’ عدم تعاون‘ کی وجہ سے مدعی نرسنگ کے امتحان میں دو بار فیل ہوگئی۔جینیفر نے امتحان میں ناکامی کا ذمے دار یونی ورسٹی انتظامیہ کو ٹھہراتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسے 75000 ڈالر ہرجانہ دلوایا جائے۔ تاہم جینیفر کے وکیل کا کہنا ہے کہ جینیفر کو ہرجانے کی وصولی سے زیادہ تیسری بار امتحان دینے میں دل چسپی ہے۔ مسیریکورڈیا یونی ورسٹی میں طلبا کی رجسٹریشن دو سال کے لیے ہوتی ہے۔ اس طرح جینیفر کی رجسٹریشن ختم ہوچکی ہے اور وہ تیسری بار امتحان دے کر نرسنگ کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی خواہش مند ہے۔وکیل کا کہنا ہے کہ جینیفر کو یونی ورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تمام سہولتوں کے ساتھ امتحان دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس کے باوجود بھی اگر وہ فیل ہوتی ہے تو پھر یہ اس کی نااہلی تصور کی جائے گی۔مسیریکور ڈیا یونی ورسٹی کی انتظامیہ نے اس منفرد مقدمے کے بارے میں یونی ورسٹی کا موقف دینے سے انکار کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…