منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں کل ہزاروں افراد سمندرمیں نہانے گئے اورعوام کو کتنا امن چاہئے، قائم علی شاہ

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں اسماعیلی برادری کے ساتھ ایک واقعہ کیا پیش آیا کہ لوگوں نے مجھ پر غلط الزامات لگانا شروع کردیئے اور نااہل کہہ رہے ہیں جب کہ کل بغیر کسی خوف کے کراچی میں ہزاروں افراد سمندر میں نہانے گئے اور عوام کو کتنا امن چاہیئے۔سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ میں مکمل طور پر امن و امان ہے جب کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہورہی ہے،اگر سندھ میں امن نہیں تو سرمایہ کار کراچی کیوں آرہے ہیں، پنجاب میں ہونے والے واقعات پر کسی نے آواز نہیں اٹھائی اور کسی نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا، لوگوں نے استعفے طلب کرنے کو مذاق بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے دورمیں امریکی قونصل خانے پر دھماکا ہوا تو کیا اس وقت انہوں نے استعفیٰ دیا، ارباب غلام رحیم کی وزارت اعلیٰ کے دور میں اس وقت کے کور کمانڈر پرحملہ ہوا کیا اس وقت کے وزیراعلیٰ نے استعفیٰ دیا، تنقید کرنا اپوزیشن کا حق ہے لیکن وہ اگر کوئی الزام لگاتے ہیں تو پھراس کا ثبوت بھی پیش کریں۔قائم علی شاہ نے کہا کہ اپیکس کمیٹی اور سندھ حکومت نے جرائم کے خاتمہ کے لیے اہم اقدامات کیے جس پر وزیراعظم، آرمی چیف اورڈی جی آئی ایس آئی نے سندھ حکومت کی تعریف کی، سانحہ صفورا کے وقت میں اسلام آباد میں تھا اور یہ واقعہ صبح 9 بجے پیش آیا اور سانحے کے صرف 2 گھنٹے بعد 11 بجے میں کراچی پہنچ چکا تھا، سانحہ صفورا کے لواحقین کے ساتھ تمام ہمدردیاں ہیں، حملہ کرنے والوں کی شناخت ہوگئی ہےاور واقعے کے عینی شاہد مل گئے ہیں اور امید ہے کہ قاتل بھی جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…