پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

طالب علمی کے قرضے چکانے کے لیے فلمیں کیں : اداکارہ رادھیکا

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

ممبئی (این این آئی)پیڈمین، سیکرڈ گیمز اور اندھا دھن جیسی فلموں سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ رادھیکا آپٹے بظاہر عروج کی جانب گامزن نظر آتی ہیں مگر اب بھی انہیں جدوجہد کا سامنا ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں اداکارہ نے بتایا کہ بولی وڈ میں آگے بڑھنے کی جدوجہد کیسی ہوتی ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا اب جس طرح کے کرداروں کی پیشکش مجھے کی جارہی ہے، 4 سال قبل میں کبھی مسترد نہیں کرتی مگر نام بنانے کے بعد کرداروں کو چھوڑنا کسی تبدیلی سے کم نہیں۔ان کا کہنا تھا یہاں کچھ درست یا غلط نہیں مگر جو کچھ آپ کرتے ہیں اس کا ایک نتیجہ ہوتا ہے اور آپ کو اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہونا پڑتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ چیزیں کس طرح کام کرتی ہیں مگر ایسا کچھ نہیں ہوتا۔رادھیکا نے انکشاف کیا کہ وہ بچپن سے ہی اداکاری کے شعبے میں جانا چاہتی تھیں اور آغاز میں انہیں تھیٹر میں جدوجہد کا سامنا ہوا اور طالبعلمی کے قرضے چکانے کے لیے فلمیں کیں اور پھر انہیں بریک ملا۔وہ ہمیشہ سے جانتی تھیں کہ مین اسٹریم سینما میں کام کا اکثر صلاحیت سے کچھ زیادہ لینا دینا نہیں ہوتا آپ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں جب آپ ایسے نظر آئیں جیسے پروڈیوسرز تلاش کررہے ہوتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کچھ عرصے پہلے انہیں ایک کردار کے لیے منتخب کرلیا گیا مگر کنٹریکٹ پر دستخط کے دوران مسترد کردیا گیا ان کا کہنا تھا کہ میں نے بہت زیادہ وزن بڑھا لیا ہے اور مجھے نکال باہر کیا گیا، میں نے انہیں کہا کہ میرے پاس شوٹنگ کے لیے 2 ماہ ہیں جس کے دوران میں وزن کم کرلوں گی مگر وہ انتظار نہیں کرنا چاہتے تھے۔اب بھی رادھیکا کو آڈیشن کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور غیرملکی پراجیکٹس کے لیے مسترد کرنے کے عمل سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔تاہم وہ کہتی ہیں مجھے اب بھی اکثر مسترد کیا جاتا ہے مگر آپ اس کے عادی ہوجاتے ہیں، آپ کا غصہ ختم ہوچکا ہوتا ہے اور آپ کو احساس ہوتا ہے کہ یہ ذاتی معاملہ نہیں۔رادھیکا کے خیال میں یہ اچھا ہے کہ اب بھی آڈیشن کے لیے ان کے نام پر غور کیا جاتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…