جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

درآمدی اسٹیل مصنوعات پر آر ڈی، سیلز ٹیکس یا سیس نافذ کرنے کا مطالبہ

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان اسٹیل میلٹرز ایسوسی ایشن نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی صنعت کو نقصان سے بچانے اور قیمتوں کو متوازن رکھنے کیلیے درآمدی اسٹیل کی مصنوعات پر ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس یا خصوصی سیس کا نفاذ کیا جائے۔پاکستان اسٹیل میلٹرز ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اسٹیل کی صنعت کے مختلف شعبوں میں توازن کو برقرار رکھنا سب کیلیے اہم ہے۔ ایف بی آر کے اس اقدام سے نہ صرف درآمدی اشیا پر اضافی ڈیوٹی ملے گی بلکہ مقامی یونٹس کی پیداوار میں اضافے سے بھی آمدنی میں اضافہ ہوگاجبکہ مسابقتی ماحول پیدا ہونے سے قیمتوں میں نمایاں ہوگی جس کا فائدہ صارفین کو ہوگا۔اس وقت ملک میں اسٹیل کی صنعت کی پیداواری صلاحیت 5 ملین ٹن ہے جس میں 10فیصد اضافے سے مزید 5لاکھ ٹن اضافی پیداوار ہوگی اور ایف بی آر کو سالانہ تین ارب روپے اضافی حاصل ہوسکیں گے۔
اس کے علاوہ اگر ملک میں 250,000ٹن اضافی بلٹ درآمد کیے جائیں توبراہِ راست ٹیکس سے ایف بی آر کو سالانہ تین ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔درآمدی اسٹیل پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کے نفاذ سے درآمد کنندگان پھر بھی مقامی پیداواری یونٹس کے مقابلے میں زیادہ منافع حاصل کرسکیں گے جبکہ ایف بی آر کو بھی اضافی اربوں روپے حاصل ہوسکیں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل میلٹرز ایسوسی ایشن نے پچھلے دو سالوں میں پالیسی کے اتار چڑھا و¿ کا سامنا کیا ہے۔پچھلے سال پاکستان اسٹیل میلٹرز ایسوسی ایشن پر 75فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا تھاجبکہ بجلی کی قیمتوں میں 74فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔اس سال اسٹیل اسکریپ پر 5فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اسٹیل کی تیاردرآمدی مصنوعات پر 15فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کا فائدہ بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ناکافی ہوگیا تھا جس کے بعدسے اسٹیل میلٹرز کو درآمدی مصنوعات کی وجہ سے بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ اس لیے اب یہ ضروری ہے کہ ایف بی آر درآمدی اسٹیل کی اشیاءپر اضافی سیلز ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر کے مقامی صنعت کے لیے بھی مسابقتی ماحول فراہم کرے۔ اسٹیل کی صنعت کو امید ہے کہ حکومت اسٹیل بلٹس پر 25فیصد، بارز، وائیرزاور راڈز پر کم از کم 40فیصد اضافہ کرے گی۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…