ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

مسئلہ کشمیر، سابق بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے ہی حکمرانوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے بڑا اعتراف کرلیا

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

نئی دہلی( آن لائن )بھارت کے سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے جانا بھارت کی بنیادی غلطی تھی۔ نٹور سنگھ نے نئی دہلی میں ایک میڈیا انٹرویو میں کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں جانا ایک بنیادی غلطی تھی اور گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن نے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کویہ غلطی کرنے پر مجبور کیاتھا۔

انہوں نے کہا ہم اقوام متحدہ میں باب 6کے تحت گئے جو تنازعات کے بارے میں ہے جبکہ ہمیں باب 7کے تحت جانا چاہیے تھا جو جارحیت کے بارے میں ہے۔ پاک بھارت تعلقات کے بارے میں87 سالہ نٹورسنگھ نے کہاکہ یہ دائمی طورپر حادثات کا شکارہیں ۔انہوں نے کہا بھارت کے ہروزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے سمجھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل اور پاک بھارت تعلقات کو معمول پرلاسکتا ہے ۔ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کا کوئی حل نہیں ۔ انہوں نے کہا پاک بھارت تعلقات ماضی میں اٹکے ہوئے ہیں ۔دونوں ممالک ماضی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور مجھے تعلقات میں کوئی تبدیلی نظرنہیں آرہی جو افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میں کوئی وزیر اعظم یا اورکوئی شخصیت مستقبل میں جواہر لال نہروں کی خارجہ پالیسی کے فریم ورک میں بنیادی تبدیلی نہیں لاسکتا۔انہوں نے کہااگر ایسا ممکن ہوتا تو یہ ہوچکا ہوتا اس لئے مجھے نہیں لگتا کہ مودی حکومت نے اسے انحراف کیا ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا مودی حکومت امریکا کے قریب جارہی ہے، نٹور سنگھ نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ مودی بہت چالاک ہے وہ روس کے ساتھ بھی تعلقات بڑھا رہا ہے اور چین کے ساتھ بھی تعلقات بڑھا رہا ہے تاہم انہوں نے کہاکہ مودی حکوت کو نیپال کے ساتھ تعلقات کو بہتر انداز میں چلانا ہوگا۔ بھارت کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی سمیت اہم شخصیات کے خطوط کے مجموعے پر مشتمل نٹور سنگھ کی تازہ کتاب ٹریژرڈ ایپسلز گزشتہ سال شائع ہوئی تھی ۔ نٹور سنگھ راجیو گاندھی کی حکومت میں ایک جونیئر وزیر اور کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے کی حکومت میں وزیر خارجہ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…