اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

نیب ریفرنس: نوازشریف نے بیرون ملک سے بھجوائی گئی رقوم تسلیم کرلیں، عدالت میں دھماکہ خیز بیان دے دیا

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)العزیزیہ ریفرنس کی احتساب عدالت میں سماعت، سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بیان میں بیرون ملک سے بھجوائی گئی رقوم تسلیم کرلیں، 77فیصد رقم مریم نواز کو گفٹ کرنیکی بھی تصدیق۔ تفصیلات کے مطابق آج اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت کی

جانب سے سوالات کے جوابات ریکارد کروا رہے ہیں۔ انہوں نے آج مزید 30سوالات کے جوابات دئیے، انہوں نے اب تک 151میں سے 120کے جواب دئیے ہیں۔ آج عدالتی سوالات کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھاکہ انہوں نے العزیزیہ سٹیل ملز کی ملکیت کا دعویٰ کبھی نہیں کیا ، ان کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ کبھی قطری خطوط پر انحصار نہیں کیااور نہ ہی ی شہزادے کے خطوط کبھی بھی کسی فورم پر اپنے دفاع کے لیے پیش کئے۔ سابق وزیراعظم سے سوال کیا گیا ‘جے آئی ٹی نے کہا قطری نے کوششوں کے باوجود بیان ریکارڈ نہیں کرایا، آپ کیا کہیں گے جس پر نواز شریف نے کہا حمد بن جاسم نے جے آئی ٹی کو سوالنامہ فراہم کرنے کا کہا تھا، ان کی جانب سے یہ ایک معقول درخواست تھی تاہم جے آئی ٹی نے غیر ضروری طور پر بیان ریکارڈ کرنے کے لئے سخت شرائط رکھیں۔نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی کے طریقہ کار سے لگا کہ وہ قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنا نہیں چاہتی، قطری کے خطوط سے کہیں نہیں لگتا وہ جے آئی ٹی سے تعاون کے لیے تیار نہیں تھے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘قطری نے جے آئی ٹی کو لکھا تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں پیش دونوں خطوط کی تصدیق کرتے ہیں اور جے آئی ٹی دوحا آکر ان خطوط کی تصدیق کرسکتی ہے، جے آئی ٹی کے پاس کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ قطری خطوط کو محض افسانہ قرار دے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ العزیزیہ اسٹیل ملز کی فروخت یا اس سے متعلق کسی ٹرانزیکشن کا کبھی حصہ نہیں رہا، شریک ملزم حسین نواز نے 6 ملین ڈالر میں العزیزیہ کے قیام کا بیان میری موجودگی میں نہیں دیا اور اس کا بیان قابل قبول شہادت نہیں۔نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا ‘حسن اور حسین نواز کا بیان جے آئی ٹی میں میری موجودگی میں ریکارڈ نہیں ہوا، شریک دونوں ملزم اس

عدالت میں پیش ہوئے نا ہی ان کا ٹرائل میرے ساتھ ہو رہا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ ‘حسن اور حسین نواز سے منسوب کوئی بیان میرے خلاف بطور شواہد پیش نہیں کیا جاسکتا اور دونوں کے انٹرویوز بطور شواہد پیش نہیں کیے جا سکتے۔سابق وزیراعظم نے کہا ‘تفتیش کے دوران کسی بھی شخص کا دیا گیا بیان قابل قبول شہادت نہیں، یہ درست نہیں کہ العزیزیہ اسٹیل ملز حسین نواز نے قائم کی

بلکہ یہ میرے والد نے قائم کی تاہم اسٹیل ملز کا کاروبار حسین نواز چلاتے تھے۔نواز شریف نے کہا کہ بیرون ملک سے مجھے موصول ہونے والی تمام رقم میرے گوشواروں میں درج ہے اور اس رقم کو میں اپنی مرضی سے خرچ کرنے کا مجاز تھا، سپریم کورٹ کے سامنے کبھی قطری خط پر انحصار نہیں کیا اور جے آئی ٹی کی رپورٹ میں مجھے جعلسازی کا شائبہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…