اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

’’سول نافرمانی، ریاستی اداروں پر دھاوا‘‘ وزیراعظم عمران خان کی نا اہلی کیلئے دائر درخواست پر عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعطم عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست ایک ہفتے کیلئے ملتوی کرتے ہوئے درخواست کے قابل سماعت ہونے کیلئے مزید دلائل مانگ لئے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا پر مشتمل بنچ نے لائیرز فاؤنڈیشن فار جسٹس کے وکیل اے کے ڈوگر کی وساطت سے دائر کی گئی وزیراعظم عمران خان کی

نا اہلی کیلئے دائر درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے درخواست پر سماعت ایک ہفتے کےلیے ملتوی کرتے ہوئے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے لیے درخواست گزار وکیل کو مزید دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔واضح رہے کہ درخواست میں وفاقی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان نیازی کو فریق بنایا گیا ہے درخواست گزار کا موقف ہے کہ نواز شریف کے دور حکومت میں عمران خان سول نافرمانی کے لیے لوگوں کو ٹیکس نہ دینے اور بیرون ممالک سے رقوم بھی نہ بھیجنے پر اکسایا ۔اس کے علاوہ عمران خان نے حامیوں سمیت پارلیمنٹ کی بلڈنگ پر دھاوا بولا اور اور گیٹ توڑے ، انہوں نے ملکی سالمیت کے خلاف اقدامات کیے ہیں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وزیر اعظم کو آرٹیکل 62 ون جی کے تحت نا اہل کیا جائے۔خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان کی نا اہلی کیس میں جسٹس شوکت عزیزصدیقی کو ہٹا کر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی نیا بنچ تشکیل دیا گیا تھا جس نے عمران خان کی نا اہلی سے متعلق جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی تھی۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما کی جانب سےاسلام آباد ہائیکورٹ میں آئین کے آرٹیکل 62کے تحت عمران خان کی نا اہلی کی درخواست دائر کی گئی تھی جس

میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ایک بیٹی ٹیرن وائٹ بھی ہے جس سے متعلق عمران خان نے اپنے انتخابی گوشواروں میں کوئی ذکر نہیں کیا لہٰذا جھوٹ بولنے پر ان کو آئین کے آرٹیکل 62کے تحت نا اہل قرار دیا جائے جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بنچ نے درخواست پر سماعت کرتے

ہوئے عمران خان سے جواب طلب کیا تھا۔ تاہم عمران خان کی نا اہلی کیس کا یہ بنچ تبدیل کر دیا گیاتھا اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جگہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو بنچ کا حصہ بنایا گیا تھاجس نے یکم اگست2018 کو جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کی درخواست پر یکم سماعت کرنا تھی۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی پارٹی جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی نے عمران خان کے انتخابی گوشوارے ان کے پانچوں حلقوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس پر عمل کرتے ہوئے ان کے پانچوں حلقوں میں آر اوز کے سامنے ان کے انتخابی گوشوارے چیلنج کئے گئے تھے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی یہ معاملہ لایا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…