جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ۭزیر زمین پانی کی سطح کیسے بہتر کی جا سکتی ہے، سولر ٹیوب ویلز کے ذریعے بچت نہیں بلکہ پاکستان کا کیا نقصان ہو رہا ہے؟اہم انکشافات

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کوئٹہ (نیوز ڈیسک )جماعت اسلامی کے صوبائی امیرمولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ ڈیموں کی تعمیر کے بغیر سولرٹیوب ویلزکے منصوبے الٹاپانی کی کمی اورسرمائے کے نقصان کا باعث بنیں گے زمین زمین پانی ڈیموں سے ہی بڑھ سکتا ہے بلوچستان بھر میں ڈیمز بناکر زمین زمین پانی کی سطح پر بہتراور پانی کی کمی ختم زراعت کی ترقی پر توجہ دی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستا ن

میں پانی کی کمی وزراعت کو تباہی سے بچانے کیلئے صرف سولرٹیوب ویلزکے منصوبے کارآمد نہیں حکومت سرمائے کے نقصان کے بجائے مشاورت وماہرین کے مشورے سے ڈیمز کی تعمیر پر توجہ دیں۔ سپریم کورٹ اور حکومت کی جانب سے نئے ڈیمز بنانے کے حوالے سے فنڈ ریزنگ اور عوام میں شعور بیدارکرنا اگرچہ خوش آئند ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیم بنانے کے حوالے سے عملاً اقدامات بھی ساتھ ساتھ کیے جائیں۔ بلوچستان زرعی صوبہ ہے مگر حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے خشک سالی کیساتھ زراعت تباہ ہورہی ہے حکومت کوصوبہ بھر میں چھوٹے بڑے ڈیم فوری تعمیر کرنا چاہئیںنئے ڈیمزبلوچستان کی بقاکی ضمانت ہیں۔پانی زندگی ہے مگر اہل بلوچستان ان زندگی سے محروم ہونے کے قریب ہے بلوچستان کے حکمرانوں نے پانی کی کمی کا کوئی نوٹس نہیں لیا ڈیم بنانے پر توجہ نہیں دی زراعت کو تباہی وبربادی سے بچانے کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں بنایاجس کی وجہ سے آج یہاں کے عوام پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں صوبے میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ ہے جس کی وجہ سے زراعت ومعیشت تباہی وبربادی کی قریب ہے کئی کئی گھنٹوں پر محیط لوڈشیڈنگ نے لوگوں کا براحال کردیا ہے۔ترقیاتی کاموں اور کھمبوں کی تبدیلی کے نام پر لوڈشیڈنگ کے علاوہ بریک ڈائون،ٹرپنگ اور بغیر کسی شیڈول کے بجلی کی بندش سے عوام کی

زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔لوگوں میں اضطراب پایاجاتاہے حکمران مسائل پر توجہ دینے کی بجائے نمائشی اقدامات کررہے ہیں۔ بلوچستان میں اس وقت توانائی کابحران شدیدہوچکاہے جس کی وجہ سے زراعت تباہ،روزگار ناپید نوجوان اور مزدور بے روزگار ہورہے ہیں۔ ملک کودرپیش آبی مسائل کاحل صرف ایک دو ڈیمزکی تعمیر سے ممکن نہیں۔ہمیں بڑے بڑے ڈیمز فی الفور بناناچاہیے

اور اس اہم مسئلے پر بھی سب کو متحد کرنا ہوگا۔بڑے ڈیمز سے جہاںایک طرف سستی بجلی وافر دستیاب ہوگی وہاں دوسری طرف روزگارکے نئے مواقع بھی ملیں گے۔المیہ یہ ہے کہ ہر سال اربوں ڈالر کاپانی سمندر بردہوجاتاہے۔ہم پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھاکرہر سال اربوں ڈالرکاپانی بچاسکتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…