جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

ۭزیر زمین پانی کی سطح کیسے بہتر کی جا سکتی ہے، سولر ٹیوب ویلز کے ذریعے بچت نہیں بلکہ پاکستان کا کیا نقصان ہو رہا ہے؟اہم انکشافات

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کوئٹہ (نیوز ڈیسک )جماعت اسلامی کے صوبائی امیرمولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ ڈیموں کی تعمیر کے بغیر سولرٹیوب ویلزکے منصوبے الٹاپانی کی کمی اورسرمائے کے نقصان کا باعث بنیں گے زمین زمین پانی ڈیموں سے ہی بڑھ سکتا ہے بلوچستان بھر میں ڈیمز بناکر زمین زمین پانی کی سطح پر بہتراور پانی کی کمی ختم زراعت کی ترقی پر توجہ دی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستا ن

میں پانی کی کمی وزراعت کو تباہی سے بچانے کیلئے صرف سولرٹیوب ویلزکے منصوبے کارآمد نہیں حکومت سرمائے کے نقصان کے بجائے مشاورت وماہرین کے مشورے سے ڈیمز کی تعمیر پر توجہ دیں۔ سپریم کورٹ اور حکومت کی جانب سے نئے ڈیمز بنانے کے حوالے سے فنڈ ریزنگ اور عوام میں شعور بیدارکرنا اگرچہ خوش آئند ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیم بنانے کے حوالے سے عملاً اقدامات بھی ساتھ ساتھ کیے جائیں۔ بلوچستان زرعی صوبہ ہے مگر حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے خشک سالی کیساتھ زراعت تباہ ہورہی ہے حکومت کوصوبہ بھر میں چھوٹے بڑے ڈیم فوری تعمیر کرنا چاہئیںنئے ڈیمزبلوچستان کی بقاکی ضمانت ہیں۔پانی زندگی ہے مگر اہل بلوچستان ان زندگی سے محروم ہونے کے قریب ہے بلوچستان کے حکمرانوں نے پانی کی کمی کا کوئی نوٹس نہیں لیا ڈیم بنانے پر توجہ نہیں دی زراعت کو تباہی وبربادی سے بچانے کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں بنایاجس کی وجہ سے آج یہاں کے عوام پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں صوبے میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ ہے جس کی وجہ سے زراعت ومعیشت تباہی وبربادی کی قریب ہے کئی کئی گھنٹوں پر محیط لوڈشیڈنگ نے لوگوں کا براحال کردیا ہے۔ترقیاتی کاموں اور کھمبوں کی تبدیلی کے نام پر لوڈشیڈنگ کے علاوہ بریک ڈائون،ٹرپنگ اور بغیر کسی شیڈول کے بجلی کی بندش سے عوام کی

زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔لوگوں میں اضطراب پایاجاتاہے حکمران مسائل پر توجہ دینے کی بجائے نمائشی اقدامات کررہے ہیں۔ بلوچستان میں اس وقت توانائی کابحران شدیدہوچکاہے جس کی وجہ سے زراعت تباہ،روزگار ناپید نوجوان اور مزدور بے روزگار ہورہے ہیں۔ ملک کودرپیش آبی مسائل کاحل صرف ایک دو ڈیمزکی تعمیر سے ممکن نہیں۔ہمیں بڑے بڑے ڈیمز فی الفور بناناچاہیے

اور اس اہم مسئلے پر بھی سب کو متحد کرنا ہوگا۔بڑے ڈیمز سے جہاںایک طرف سستی بجلی وافر دستیاب ہوگی وہاں دوسری طرف روزگارکے نئے مواقع بھی ملیں گے۔المیہ یہ ہے کہ ہر سال اربوں ڈالر کاپانی سمندر بردہوجاتاہے۔ہم پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھاکرہر سال اربوں ڈالرکاپانی بچاسکتے ہیں۔



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…