جمعہ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2026 

آسیہ بی بی رہائی کے بعد بیرون ملک روانہ

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ملتان جیل سے رہائی کے بعد اسلام آباد پہنچنے والی آسیہ بی بی بیرون ملک روانہ ہو گئی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے دعوے کے مطابق مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا ہے اور وہ بیرون ملک روانہ ہو گئی ہیں۔بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ملتان جیل سے آسیہ بی بی کو راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس لایا گیا جہاں وہ اپنے خاندان سمیت نیدرلینڈز کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔ آسیہ بی بی اور ان کے خاندان کے علاوہ پاکستان میں نیدرلینڈز کے سفیر بھی جہاز میں سوار ہیں

اس سے قبل آسیہ بی بی کے وکیل ایڈووکیٹ سیف الملوک نے کہا کہ آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ بی بی سی نیوز کے سکندر کرمانی سے بات کرتے ہوئے سیف الملوک نے اس بات کی تصدیق کی۔ تاہم صحافی عادل شاہزیب کا کہنا ہے کہ ان سے وزیر اعظم کے خصوصی نائب برائے میڈیا افتخار درانی نے بات کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی کہ آسیہ بی بی ملک چھوڑ کر نیدرلینڈز روانہ ہو گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آسیہ بی بی اب بھی پاکستان میں ہیں۔

جہاں سے انہیں سیکورٹی میں ملتان ائیرپورٹ لے جایا گیا ہے ملتان سے انہیں اسلام آباد روانہ کر دیا گیا ۔
نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد میں نور خان بیس سے آسیہ بی بی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر سوشل میڈیا پر خبریں گردش میں تھیں کہ شاید آسیہ بی بی کو آج راتوں رات ہالینڈ منتقل کر دیا جائے۔ کیونکہ آج ملتان جیل سے رہائی کے موقع پر ہالینڈ کے سفیر کا خصوصی ایلچی آسیہ بی بی کے استقبال کیلئے موجود تھا ۔ آسیہ بی بی کے وکیل نے بھی ہالینڈ کی حکومت سے پناہ کی اپیل کی ہے۔
آسیہ بی بی گزشتہ 8 سال سے سینٹرل جیل ملتان میں قید تھیں۔انہیں توہین رسالت کے کیس میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔جس کو لاہور ہائیکورٹ نے برقرار رکھا۔ تاہم

31 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی پر لگنے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ آسیہ بی بی کیخلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا تھا، اسی باعث ان کی پھانسی کی سزا ختم کرتے ہوئے انہیں رہا بھی کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے کئیے جارہے تھے ۔ ملک کے بڑے شہروں میں حالات کئی روز تک کشیدہ رہے۔ تاہم بعد ازاں حکومت اور مظاہرین میں معاہدہ طے پا گیا۔ 5 نکاتی معاہدے کے بعد حکومت اور مظاہرین میں اتفاق پایا گیا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے پر نظر ثانی اپیل میں حائل نہیں ہو گی۔آسیہ مسیح کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ مظاہروں میں ہونے والی شہادتوں پر قانونی کاروائی کی جائے گی۔معاہدے میں طے پایا ہے کہ گرفتار کئیے جانے والے کارکنان کو رہا کیا جائے گا۔تحریک لبیک کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس سارے واقعے میں اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو تحریک کے قائدین اس پر معذرت خواہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…