منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سائبر حملے،پاکستانی اکاؤنٹس سے 26لاکھ ڈالرز کی لوٹ مار،پاکستان کے کون سے 9بینکوں کے صارفین کا ڈیٹا چوری ہوا؟ نام سامنے آگئے

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)نیشنل بینک آف پاکستان نے اپنے صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ ان کا ڈیٹا اور رقم محفوظ ہے۔بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق بینک کا نظام، صارفین کی رقم اوران کا سرمایہ بھی محفوظ ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیشنل بینک نے ایسے بے ضرر حملوں سے نمٹنے کیلئے اقدامات کر رکھے ہیں۔ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل سائبر حملے سے پاکستان کے نو بینکوں کے صارفین متاثر ہوئے ہیں۔ہیکرز نے حبیب بینک، بینک اسلامی، فیصل بینک، بینک الفلاح،

جے ایس بینک، سامبا بینک، سونری بینک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور بینک آف پنجاب کے صارفین کے کارڈز کا ڈیٹا چرایا ہے۔ترجمان اسٹیٹ بینک عابد قمر کے مطابق پاکستانی صارفین کے ڈیٹا پر کئی ممالک میں کیش نکلوایا گیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کیپٹن ریٹائرڈ شعیب نے بھی سائبرحملے کی تصدیق کی ہے۔ایف آئی اے کے مطابق سائبر حملوں کے دوران اکاؤنٹس سے 26 لاکھ ڈالرز نکالے گئے۔ حکام کے مطابق اب تک صرف 100 شکایات ہی وصول ہوئی ہیں تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔سائبر سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ 19 ہزار سے زائد ہیک کیے گئے کارڈز میں ویزا اور ماسٹر کارڈز شامل ہیں۔نیشنل بینک آف پاکستان کے مطابق عالمی ہیکرز پاکستان کے ایک بینک کے آئی ٹی سسٹم میں داخل ہوئے تھے تاہم سیکیورٹی ماہرین سے اس کی تردید کی ہے۔آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیکرز نے کارڈز کا ڈیٹا اے ٹی ایم مشینز اور دیگر آلات کی مدد سے چرایا ہے۔سائبر حملے کے بعد متعدد پاکستانی بینکوں نے انٹرنیشنل ادائیگیاں بند کر دی ہیں اور اے ٹی ایم سروسز بھی محدود کردی ہیں۔ بینکوں نے صارفین کے ویزا، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کی تبدیلی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…