پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کوئی ٹھکانہ نہ ہونے پر باپ اپنے دو چھوٹے بچوں کو لیکر شدید سردی میں سڑک کنارے ہی سو گیا، جس نے دیکھاآنکھوں سے آنسو نکل پڑے،مدد کیلئے بڑی آواز بھی بلند ہوگئی

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا پرگزشتہ روز ایک ایسی تصویر وائرل ہوئی جس نے ہر صارف کی آنکھ نم کر دی۔ اس تصویر میں سردی کے موسم میں سڑک کنارے سوئے ہوئے باپ بیٹوں کو دیکھا گیا۔موسم کی تلخی اور ٹھٹھرتی رات میں گرم چادر اوڑھے ایک باپ اپنے دو کم سن بیٹوں کے ہمراہ ٹوکریاں فروخت کرتے کرتے کب نیند کی آغوش میں چلا گیا پتہ ہی نہیں چلا ۔تب ہی کسی راہ گزر نے ان کی تصویر اتاری اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی ۔

جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔ تصویر کے وائرل ہونے کے بعد جگہ سے متعلق دریافت کیا جانے لگا تو علم ہوا کہ تینوں باپ بیٹا لاہور کی معروف شاہراہ مال روڈ پر پیٹ پالنے کے لیے ٹوکریاں فروخت کرتے ہیں اور کوئی ٹھکانہ نہ ہونے کی وجہ سے سڑک کنارے سو جاتے ہیں ۔سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی اس تصویر نے ٹھٹھرتی رات میں اپنے گھروں میں گرم بستروں میں لیٹے کئی لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس تصویر پر کئی تبصرے کیے گئے اور فیس بک سمیت ٹویٹر پر بھی یہ تصویر کافی وائرل ہوئی۔ اس تصویر کو لے کر ناقدین نے حکومت کو بھی نشانہ تنقید بنایا اور کہا کہ حکومت نے غریب عوام کو 50 لاکھ گھر بنا کر دینے کے منصوبے کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن حکومت کو سب سے پہلے ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہئیے جو گزر بسر کے لیے محنت کرتے ہیں اور کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔حکومت پر تنقید بڑھی تو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ پنجاب حکومت صوبہ پنجاب میں 5 شیلٹر ہاؤسز تعمیر کر رہی ہے۔ جس میں سے ایک شیلتر ہاؤس 60 روز کے اندر قائم کر لیا جائے گا۔ انہوں نے  ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ اگر کوئی تصویر میں موجود شخص سے متعلق کچھ جانتا ہے تو برائے مہربانی مجھے آگاہ کرے تاکہ اس شخص اور اس کے اہل خانہ کو مدد فراہم کی جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…