منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سول ہسپتال کراچی کے شعبہ حادثات میں ا تشزدگی ، مریضوں میں خوف

datetime 18  مئی‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک)سول اسپتال کے شعبہ حادثات (ایمرجنسی وارڈ) میں ا گ لگ گئی جس کی وجہ سے شعبہ حادثات میں دھواں بھرگیا شعبہ حادثات میں موجود مریضوں اوران کے تیمارداروں سمیت اسپتال کے ڈاکٹروں اوردیگر عملے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا اورشعبہ حادثات میں افراتفری مچ گئی۔اگ لگنے کے باوجود اسپتال انتظامیہ کا کوئی بھی افسرشعبہ حادثات نہیں پہنچ سکا اورڈاکٹروں اور دیگر عملے اپنی مدد اپ کے تحت موجود مریضوں کوفوری طورپرباہرنکالاجبکہ بعض مریضوں کو دوسرے وارڈز میں منتقل کیااسی اثنا میں فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پالیا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق اگ شعبہ حادثات میں نصب اکسیجن سپلائی کرنے والی لائن میں لگی تھی جودیکھتے ہی دیکھتے بڑھ گئی، فائر بریگیڈ کے عملے نے جلد ہی گ پر قابو پالیا تاہم دھواں بھرجانے کے باعث لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی تھی جس کے بعد اسموک ایجیکٹرکے ذریعے دھواں بھی نکال دیا گیا اور صورتحال معمول پر اگئی، اسپتال کے ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے ایکسپریس کوبتایا کہ شعبہ حادثات میں ائے دن بجلی کے شارٹ سرکٹ کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، اسپتال انتظامیہ نے اس اہم مسئلے پر چپ ساد رکھی ہے۔ملازمین کا کہنا تھا کہ اسپتال کی عمارت میں بجلی کے غیر محفوظ تاریں کھلی پڑی رہتی ہیں جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں، ان ملازمین کا کہنا تھاکہ اسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت نے اسپتال سے اظہار لاتعلقی کررکھا ہے عدم توجہی کی وجہ سے اسپتال مسائل کی اماجگاہ بن چکا ہے کیونکہ اسپتال محکمہ صحت کا عمل دخل عملًا ختم ہوگیا ہے جس کی وجہ اسپتال کے انتظامی سربراہ ہیں، ان ڈاکٹروں کا کہنا تھاکہ اسپتال کے انتظامی سربراہ کو وزیر اعلی سندھ کے ذاتی دوست ہونے کی وجہ سے 7سال سے تعینات ہیں، اسپتال کے شعبہ حادثات کے سامنے اور اطراف تجاوزات کی بھرمار ہے بعض افسران کا کہنا ہے کہ تجاوزات اسپتال کے انتظامی سربراہ کی ملی بھگت سے قائم کی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…