پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

معروف ہاؤسنگ سوسائٹی کے بنگلے میں 15سالہ گھریلو ملازم کی خودکشی تفتیش کے بعد قتل کی واردات نکلی،افسوسناک انکشافات

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے علاقے کلفٹن کے ایک بنگلے میں 15سالہ گھریلو ملازم کی خودکشی تفتیش کے بعد قتل کی واردات نکلی،پولیس نے واقعہ کو 5 دن گزرنے کے بعدایف آئی آر درج کرلی ہے، آئی جی سندھ نے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ،خیبرپختون خوا سے تعلق رکھنے والا 14 سالہ عمران کراچی میں ایک دینی مدرسے کا طالب علم اور بنگلے میں جز وقتی ملازمت کرتا تھا۔تفصیلات کے مطابق ضلع دیر بالا کے علاقہ بیاڑ سے حصول تعلیم کے لیے کراچی آنے والا14سالہ عمران کو

یکم نومبر کی شب کلفٹن بلاک8میں واقع ایک مکان کے اندر قتل کردیا گیا۔ مقتول اپنے اخراجات برداشت کرنے کے لیے پڑھائی کے بعد اس گھر میں صفائی ستھرائی کا کام کرتا تھا۔عمران کو قتل کرنے کے بعد 2 نومبر کو مالک مکان نے واقعہ کو خودکشی کا رنگ دے کر لاش آبائی علاقہ روانہ کرنے کی کوشش کی مگر ایئرپورٹ پر سیکیورٹی حکام نے ان سے ایف آئی آر طلب کی۔ مالک مکان ایف آئی آر فراہم نہ کرسکے جس پر ایئرپورٹ حکام کو شک ہوا تو انہوں نے پولیس کو بلاکر لاش ان کے حوالے کردی۔پولیس نے عمران کی لاش سول اسپتال منتقل کردی جہاں ابتدائی رپورٹ میں موت کو خودکشی کے بجائے قتل قرار دیا گیا اور لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا۔ اس کے بعد عمران کی لاش گزشتہ روز آبائی علاقہ منتقل کرکے دفن کر دی گئی مگر پوسٹ مارٹم رپورٹ تاحال نہیں آئی۔اس ضمن میں مقتول کے بھائی حیات محمد نے بتایا کہ پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر رہی تھی جس پر دیر سے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ صبغت اللہ گزشتہ روزکراچی پہنچے اور ان کے کہنے پر کلفٹن پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی ،ایف آئی آرمیں مالک مکان عبدالرزاق، چوکیدار صمد اور ڈرائیور امجد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے بنگلے سے دو ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں نامزد ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔مقتول کے اہل خانہ نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ عمران کو زیادتی کے بعد قتل کیا ہے۔دوسری جانب آئی جی سندھ پولیس کلیم امام نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سے تفصیلی انکوائری جبکہ ایس ایس پی ساؤتھ سے اس ضمن میں اٹھائے گئے قانونی اقدامات پر مشتمل رپورٹ فی الفورپر طلب کرلی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…