جمعہ‬‮ ، 06 مارچ‬‮ 2026 

اقتصادی جنگ میں چین اور پاکستان نے مل کر ایٹم بم کا دھماکہ کر دیا،ڈالر کی چھٹی ، دونوں ممالک اب کس کرنسی میں تجارت کرینگے؟۔۔۔تاریخی فیصلہ کر لیا گیا

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈالر کی چھٹی ، دنیا کے مختلف ممالک پر ڈالر بم گرانے والا امریکہ خود ہی ڈالر بم کی زد میں آگیا، پاکستان اور چین کاڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں کاروبار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ روزنامہ جنگ میں شائع ہونیوالی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک میں یہ بات طے پا گئی ہے کہ آئندہ لین دین اپنی اپنی کرنسی میں ہوگا یعنی یوآن اورپاکستانی روپے میں

۔چین کے صدر اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے پہلے ڈالر کی اجارہ داری کے خاتمے کےلئے ترک صدر رجب طیب اردوغان نے یہ کوشش شروع کی تھی انہوں نے قرقزستان میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ آئیے ہم اپنی قومی کرنسی میں تجارت کو فروغ دیں ۔ ڈالر سے ہمیں ہمیشہ نقصان پہنچا ہے ۔روسی وزیر خارجہ نے بھی اس سلسلے میں ترکی کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا۔چین ، روس اور ترکی ڈالر کی اجارہ داری کے خلاف کافی عرصہ سے کام رہے تھے ۔اب اس کوشش میں پاکستان بھی شامل ہو گیا ہے ۔یورپ بھی ڈالر کی حاکمیت ختم کرنا چاہتا ہے فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ ڈالر کی اجارہ داری جلد ختم ہوجائے گی۔ یورپ کے خلیجی ممالک کے ساتھ اس موضوع پر معاملات کافی آگے بڑھ چکے ہیں ۔یورپ ڈالر کی جگہ یورو کی حاکمیت کےلئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے، دوسری طرف خلیجی ممالک بھی اپنی مشترکہ کرنسی پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔عمران خان کے دورہ ء چین کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ پاکستان اورچین نےایک دوسرے کی کرنسی میں تجارت کے معاہدے پرفوری عمل درآمدکا اعلان کیا ہے۔یہ معاہدہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت نیچے کی سمت لانے کی اہم ترین کڑی ہے ۔امکان ہے کہ اس معاہدہ کے بعد ڈالر کے بہی خواہ عمران خان کی حکومت کے خلاف اپنی کارروائی تیز کردیں گے۔کیونکہ اس معاہدہ سے امریکا کو چین اور

پاکستان کی مارکیٹ میں فوری طوری پر اربوں ڈالر کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے ۔اب کسی بھی پاکستانی تاجر کو چین کے ساتھ کاروبار کرنے کےلئے ڈالر کی ضرورت نہیں ہوگی اور نہ کسی چینی سرمایہ کار کو پاکستان میں کاروبار کےلئے ڈالر خریدنے پڑیں گے ۔چین اور پاکستان میں ہونے والی تجارتی سرگرمیوں سے ڈالر کا نکال دیا جاناایک بہت بڑا واقعہ ہےاوریہ

اقتصادی جنگ میں ایٹم بم کے دھماکے سے کم نہیں ۔اسی سال ستمبر میں روس کے شہر ولادی ووسٹوک میں چینی صدرکے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ میں روسی صدرکا کہنا تھا کہ ہمیں ہر حال میں امریکی ڈالر کا استعمال کم کرنا ہے اوراپنی اپنی قومی کرنسی کا استعمال بڑھانا ہے ۔ ‘‘یقینا دو طرفہ تجارت میں روس اور چین کی جانب سے اپنی اپنی کرنسی میں لین دین ان کی بنکاری مستحکم کرے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…