منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے وکیل نے پاکستان چھوڑ دیا،کیا وجہ بنی کہ فوری طورپر جارہاہوں؟ افسوسناک انکشاف

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی)مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے وکیل نے قتل کی دھمکیاں ملنے کے بعد پاکستان چھوڑ دیا۔ایڈووکیٹ سیف الملوک نے سپریم کورٹ میں آسیہ بی بی کا کیس لڑا۔ سپریم کورٹ نے 31 اکتوبر کو اپنے فیصلے میں آسیہ بی بی کو توہین رسالت ﷺ کے الزام سے بری کرتے ہوئے حکم دیا کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔

عدالت عظمی کے فیصلے کے خلاف مذہبی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا اور ملک کے کئی شہروں میں دھرنے بھی دئیے جن میں تقریروں کے دوران کیس کی سماعت کرنے والے معزز ججوں اور مذکورہ وکیل کے لیے سخت زبان استعمال کی گئی۔ملک چھوڑ کر یورپ کے جانے کے لیے جہاز پر سوار ہونے سے قبل سیف الملوک نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ موجودہ صورتحال میں میرے لیے پاکستان میں رہنا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے لیے ابھی زندہ رہنا ضروری ہے کیونکہ مجھے ابھی بھی آسیہ بی بی کے لیے قانونی جنگ لڑنی ہے، انصاف کے لیے جنگ جاری رہنی چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں سیف الملوک نے کہا کہ آسیہ کی بریت کے خلاف ہونے والا احتجاج غیر متوقع نہیں تاہم حکومتی رویہ افسوس ناک ہے جو ملک کی اعلی ترین عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کراسکتی۔سیف الملوک نے کہا کہ رہائی کے خلاف نظر ثانی درخواست کا فیصلہ آنے تک آسیہ کی زندگی جیل سے باہر بھی قید جیسی ہوگی کیونکہ زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے اس کی نقل و حرکت پر پابندی ہے۔ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے وکیل نے قتل کی دھمکیاں ملنے کے بعد پاکستان چھوڑ دیا۔ایڈووکیٹ سیف الملوک نے سپریم کورٹ میں آسیہ بی بی کا کیس لڑا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…