پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

حکومت ناکام ہوگئی، وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں وہ باتیں بھی کردیں جن سے عوام واقف نہ تھے ، اہم سیاسی شخصیت نے بڑے سوال اُٹھادیئے

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ2017میں ہمارے دور حکومت میں تحریک لبیک پاکستان کے دھرنے کے موقع پر اس سے نمٹنے کیلئے کسی سیاسی جماعت نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، موجودہ حالات میں اپوزیشن نے حکومت کا مکمل ساتھ دیا، وزیر اعظم عمرا ن خان نے قوم سے اپنے خطاب میں وہ باتیں بھی کردیں

جن سے عوام واقف نہ تھے ، تقریر کی ضرورت بالکل نہیں تھی،وزیر اعظم نے جو دھمکیاں دیں ان پر وہ پورا نہ اتر سکے موجودہ حکومت رٹ کو برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے۔وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں2017میں جب تحریک لبیک پاکستان نے دھرنا تو دیا تب کسی سیاسی جماعت نے ہمارا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت نے توہین رسالت قانون میں ترمیم کے حوالے سے پہلے اتفاق کیا تاہم بعد ازاں مکر گئیں اور ساتھ دینے سے انکار کر دیا ۔ اس وقت نہ پنجاب پولیس نے ساتھ دیا اور نہ ہی رینجرز نے معاملات کو کنٹرول کرنے کی حامی بھری ۔ ہمارے پاس اس وقت صرف مذاکرات کا حل ہی بچا تھا ۔ اس وقت کے دھرنے اور موجودہ دھرنے میں فرق تھا ۔ موجودہ حالات میں اپوزیشن نے بھی حکومت کا ساتھ دیا ۔ وزیر اعظم عمرا ن خان کی تقریر کی ضرورت بالکل نہیں تھی ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں وہ باتیں بھی کر دیں جن سے عام عوام واقف نہ تھی ۔ وزیر اعظم نے جو دھمکیاں دیں ان پر وہ پورا نہ اتر سکے موجودہ حکومت رٹ کو برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی باتوں سے ہمیشہ پھر جاتی ہے ۔ اگر پارلیمنٹ میں اس حوالے سے بحث کی جاتی تو اپوزیشن ضرور ان کا ساتھ دیتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…