ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

حکمرانوں نے بے حسی کی انتہاکردی،تھر میں جاں بحق ہونیوالے بچوں کی تعداد527ہوگئی، ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟افسوسناک انکشافات

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

تھر پارکر(این این آئی)صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر میں غذائی کمی اور دیگر امراض کے باعث مزید 4 بچے لقمہ اجل بن گئے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سول اسپتال مٹھی میں غذائی کمی و دیگر امراض کا شکار 4 بچوں کا انتقال ہوا۔ذرائع نے بتایا کہ نومبر کے ابتدائی 3 دنوں میں 7 بچوں کا انتقال ہوچکا ہے ٗ رواں برس غذائی کمی و دیگر امراض کے باعث 527 سے زائد بچے دم توڑ

چکے ہیں واضح رہے کہ حکومت نے رواں برس اگست میں تھر کو قحط زدہ قرار دے کر امدادی اقدامات کیلئے سروے کرایا تھا۔خوراک کی کمی تھر کے باشندوں کا سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے۔ ان کا ذریعہ معاش بھیڑ بکریاں اور گائے بیل ہیں، جنہیں فروخت کر کے وہ اپنی گزر بسر کا سامان کرتے ہیں تاہم بھوک اور پیاس نے یہاں کے باسیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے اور کئی دیہات انسانوں سے خالی ہو چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…