ہفتہ‬‮ ، 25 اپریل‬‮ 2026 

مولانا سمیع الحق ڈائری بھی لکھتے تھے،کیا قتل میں ان کاڈرائیور بھی ملوث ہوسکتاہے؟ بھائی محمود الحق کے انکشافات

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اکوڑہ خٹک (این این آئی)قاتلانہ حملے میں شہید ہونے والے مولانا سمیع الحق کے بھائی محمود الحق نے کہا ہے کہ جے یو آئی(س) مولانا سمیع الحق نے کبھی باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی، سیاست میں ہماری کسی کے ساتھ دشمنی نہیں ۔میڈیا سے گفت گو میں محمود الحق نے کہاکہ مولانا سمیع الحق بیماری سے صحت مند ہونے پر بہت خوش تھے، جمعہ کی دن شہادت اللہ کی طرف سے ان کے لیے انعام ہے۔انہو ں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق ڈائری بھی لکھتے تھے، ذاتی دشمنی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،

ہم سب بھائیوں کی کسی سے دشمنی نہیں ہے ٗیہ افواہیں ہیں۔محمود الحق نے کہا کہ ڈرائیوار احمد شاہ ان کی خدمت کرتے تھے، سنا ہے کہ ڈرائیور کہہ رہا ہے کہ وہ دودھ لینے گیا تھا جب واپس آیا تو مولانا سمیع الحق کو خون میں لت پت دیکھا۔علاوہ ازیں نوشہرہ میں واقع دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں مولانا سمیع الحق کی یاد میں تعزیتی ریفرنس ہوا جس میں علمائے کرام، عمائدین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔دریں اثناء جے یو آئی (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کا مقدمہ ان کے بیٹے حامد الحق کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ ایئر پورٹ میں درج کرلیا گیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقدمے کے متن کے مطابق جمعے کی شام 6 بجکر 35 منٹ پر مولانا سمیع الحق کے سیکریٹری احمد شاہ نے اطلاع دی کہ مولانا صاحب اپنے کمرے میں زخمی حالت میں پڑے ہیں۔ ان کے گھر سے انہیں سفاری ولا اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔مقدمہ کے متن میں بتایا گیا کہ حملے میں مولانا سمیع الحق کے پیٹ، دل، ماتھے اور کان پر چھریوں کے 12 وار کئے گئے ۔مقدمہ میں قتل اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔راولپنڈی پولیس نے مولانا سمیع الحق کے دو ملازمین کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔ حراست میں لئے گئے ملازمین میں ان کا محافظ اور سیکرٹری شامل ہیں۔ دونوں ملازمین سے حملے کے حوالے سے تفصیلات لی جائیں گی۔مولانا سمیع الحق کے بیٹے مولانا حامدالحق نے حملے میں افغان حکومت کے ملوث ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں افغانستان کے سرکاری وفد نے مولانا سمیع الحق سے ملاقات کی تھی اور افغانستان میں قیام امن کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے کہا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(چوتھا حصہ)


لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…