بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مولاناسمیع الحق کی شہادت، دہشت گردی یا ذاتی دشمنی کا شاخسانہ؟گھر پر اکیلے،گھر کے اندر یا باہر کوئی سیکورٹی نہیں،طریقہ واردات نے بڑے سوال کھڑے کردیئے

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

راولپنڈی (آن لائن) قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس نے راولپنڈی میں اپنی رہائش گاہ کے اندرنامعلوم حملہ آوروں کی سفاکیت کانشانہ بننے والے جمعیت علما اسلام (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی موت پر دہشت گردی ، فرقہ وارانہ اور ذاتی دشمنی کے زاویوں سے مختلف پہلوؤں پرتحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے تاہم گھر کے اندر مولانا سمیع الحق کی پراسرار اور سفاکانہ موت نے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے

جن میں پاکستان کی ایک بڑی مذہبی شخصیت کاگھر میں اکیلے قتل ہو جانااور گھر کے باہر کوئی سکیورٹی گارڈنہ ہونا انتہائی معنی خیزہے پولیس ذرائع اس بات کی جانب بھی اشارہ کر رہے ہیں کہ حملہ آوروں کا مولانا سمیع الحق سے قریبی تعلق ہو سکتا ہے جس سے وہ انتہائی آسانی سے مولانا سمیع الحق کے گھر کے اندر پہنچ گئے حالانکہ مولانا سمیع الحق وقوعہ سے چند گھنٹہ پہلے اکوڑہ خٹک راولپنڈی میں اپنی رہائشگاہ پہنچے روائتی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں آتشیں اسلحے کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن مولانا سمیع الحق پر چھریوں سے وار کئے گئے جو جان لیوا ثابت ہوئے جو اس شبہے کو مزید تقویت دیتا ہے کہ یہ روائتی دہشت گردی کی واردات نہیں بلکہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ بھی ہو سکتی ہے اورتفتیشی ٹیمیں اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ حملہ آور چھریوں کے ہمراہ مولانا سمیع الحق کے گھر داخل ہوئے یا چھری بھی اسی گھر کی استعمال گئی فرانزک ماہرین نے مولانا سمیع الحق کے گھر سے ضروری شواہد حاصل کر لئے ہیں جنہیں رپورٹ کے لئے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا تفتیشی افسران تمام پہلوؤں سے واقعے کاجائزہ لے رہے ہیں دوسری جانب مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق کا موقف ہے کہ افغان حکومت اور مختلف طاقتوں کی جانب سے والد کو خطرہ تھا کیونکہ مولانا سمیع الحق امریکہ کے تسلط سے افغانستان کو آزاد کرانا چاہتے تھے حامد الحق کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس اور سکیورٹی اداروں کو دھمکیوں کے حوالے سے آگاہ کر دیا تھا جبکہ دارلعلوم اکوڑہ خٹک میں بھی سکیورٹی انتہائی سخت کر دی تھی لیکن مولانا سمیع الحق ذاتی طور پر سکیورٹی پسند نہیں کرتے تھے اور سفر میں بھی رفقا کار ساتھ ہوتے تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…