پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

مولانا سمیع الحق کے پیٹ، دل، ماتھے اور کان پر چھریوں کے کتنے وار کئے گئے ؟قانون نافذ کرنیوالے ادارے مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کے قریب پہنچ گئے، وزیراعلیٰ پنجاب نے اہم اعلان کر دیا

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مولانا سمیع الحق کو گزشتہ روز راولپنڈی میں ان کے گھر پر چاقوؤں کے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ان کے صاحبزادے مولانا حامد الحق کا کہنا تھا کہ والد گھر پر آرام کر رہے تھے جبکہ ڈرائیور اور گن مین گھر سے باہر گئے ہوئے تھے اور جب وہ واپس آئے تو مولانا کو بستر پر خون میں لت پت پایا۔پولیس حکام کو مولانا کے قتل میں ایک سے زیادہ افراد کے

ملوث ہونے کا شبہ ہے اور پوچھ گچھ کے لیے مولانا کے دو ملازمین کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔دوسری جانب تفتیشی افسران نےمولانا سمیع الحق کا فون، چشمہ اور دیگر چیزیں بھی قبضے میں لے کر فنگر پرنٹس حاصل کرلیے ہیں جبکہ تفتیش کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹی کے سی سی ٹی وی کیمروں سے مدد لی جارہی ہے۔مولانا سمیع الحق کے قتل کا مقدمہ ان کے بیٹے حامد الحق کی مدعیت میں تھانہ ایئرپورٹ میں درج کرلیا گیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق مولانا سمیع الحق پر حملہ شام ساڑھے 6 بجے ہوا اور ان کے پیٹ، دل، ماتھے اور کان پر چھریوں کے 12 وار کیے گئے۔حامد الحق کا مزید کہنا تھا کہ وہ مولانا سمیع الحق کا پوسٹ مارٹم نہیں کرانا چاہتے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا سمیع الحق کے قتل کی تفتیش سنگین جرائم کی تفتیش کرنیوالے یونٹ کے حوالے کی گئی ہیں۔ تفتیش کاروں نے ٹیلی فون اور موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کر لیا ہے جس سے پتہ چل سکے گا قتل سے پہلے مولانا سمیع الحق کو کہاں سے کال آئی اور انہوں نے کسے کال کی تھی۔ مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہےکہ مولانا سمیع الحق کے قاتل جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے اور سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت کسی بڑے المیے سے کم نہیں، وہ جید عالم دین اور ایک مدبر سیاستدان تھے، ہم ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…