منگل‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2025 

امید کے برعکس دواسازی سیکٹر میں صرف 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری

datetime 28  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(مانیٹرنگ  ڈیسک) پاکستان کے ادویات ساز سیکٹر میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) حکومتی ضوابط کی وجہ سے کمی کا شکار رہی ہے جس کے اخراجات کے بارے میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ آئندہ 10 سال میں دگنے ہوجائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق اس سیکٹر میں رواں برس امیدوں کے برعکس 2 کروڑ 64 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔

جبکہ اس سیکٹر کی سیلز مسلسل ملکی مجموعی پیداوار کا ایک سے 2 فیصد تک رہی ہے۔ بین الاقوامی نگراں ادارے فچ سلوشنز کے مطابق اگر ادویات سازی کے سیکٹر کا جی ڈی پی میں حصہ اسی رفتار کے ساتھ چلتا رہا تو یہ 2027 تک بھی ایک فیصد تک ہی اپنا حصہ دے سکے گا۔ دوسری جانب پاکستان کی ادویات کی برآمدات میں گزشتہ 3 سال کے دوران اضافہ ہوا ہے لیکن یہ بھی سست روی کا شکار ہے اور مالی سال 18-2017 کے دوران 29 کروڑ 30 ڈالر کی برآمدات دیکھنے میں آئی۔ ادویات سے متعلق کیس: ’سندھ ہائی کورٹ حکم امتناعی کی درخواستوں پر 15 روز میں فیصلہ کرے‘ پڑوسی ملک بھارت کی برآمدات کی قدر 33 ارب ڈالر ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران یہ 17 ارب 27 کروڑ ڈالر پر رہی۔ فچ سلوشنز کے مطابق پاکستان کا ادویات سازی کا سیکٹر ملک میں خراب حکمرانی، وسائل تک عدم رسائی، محکمہ صحت میں کرپشن، نگرانی اور منصوبہ بندی کا فقدان ماہر اسٹاف کی کمی کی وجہ سے متاثر ہورہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے بڑھتے ہوئے سیاسی عزم کے باوجود امکان ہے کہ حکومتی اقدامات تاخیر کا شکار ہوجائیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق 2027 تک اس سیکٹر میں اخراجات 9 سو 73 ارب روپے تک ہوجائیں گے۔ گزشتہ برس پاکستان کی ادویات سازی کی مارکیٹ کی قدر 3 سو ارب روپے سے زائد تھی۔ ادھر فرما بیورو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عائشہ حق کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی جعلی دواؤں کے معاملے میں حکومت کو دخل اندازی کرنی ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسمگل شدہ جعلی ادویات نہ صرف لوگوں کی جان کے لیے ایک خطرہ ہیں بلکہ ان کی وجہ سے قومی خزانے کو نقصان بھی ہورہا ہے۔ عائشہ حق نے کہا کہ درآمد ہونے والی ادویات اور مقامی سطح پر تیار ہونے والی ادویات کے معیار کی جانچ کرنے کے لیے حکومت کے پاس فریم ورک موجود نہیں ہے، تاہم اس معاملے کو حکومتی مداخلت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

موضوعات:



کالم



Rich Dad — Poor Dad


وہ پانچ بہن بھائی تھے‘ تین بھائی اور دو بہنیں‘…

ڈیتھ بیڈ

ٹام کی زندگی شان دار تھی‘ اللہ تعالیٰ نے اس کی…

اگر آپ بچیں گے تو

جیک برگ مین امریکی ریاست مشی گن سے تعلق رکھتے…

81فیصد

یہ دو تین سال پہلے کی بات ہے‘ میرے موبائل فون…

معافی اور توبہ

’’ اچھا تم بتائو اللہ تعالیٰ نے انسان کو سب سے…

یوٹیوبرز کے ہاتھوں یرغمالی پارٹی

عمران خان اور ریاست کے درمیان دوریاں ختم کرنے…

بل فائیٹنگ

مجھے ایک بار سپین میں بل فائٹنگ دیکھنے کا اتفاق…

زلزلے کیوں آتے ہیں

جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…