جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پیرس : ریپ کے الزام میں گرفتار مذہبی اسکالر کا اعتراف جرم

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

پیرس (این این آئی)فرانس میں دو خواتین کے ساتھ ریپ کے الزام میں زیر حراست آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور اسلامک اسکالر طارق رمضان نے اعتراف کرلیا کہ دونوں خواتین کی باہمی رضا مندی کے بعد تعلق قائم کیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل وہ اپنے اوپر عائد ریپ کے الزامات کو قطعیٰ مسترد کرتے رہے تھے۔طارق رمضان آکسفورڈ یونیورسٹی، سینٹ اینتھونی کالج کی

فیکلٹی آف اوریئنٹل اسٹڈیز میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر اور اخوان المسلمون کے بانی شیخ حسن البناء کے پوتے ہیں۔موروکو ورلڈ نیوز کی رپورٹ کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر طارق رمضان نے(22 اکتوبر) کو دو فرانسیسی خواتین سے تعلقات کا اعتراف کیا اور موقف اختیار کیا کہ تعلقات قائم کرنے میں خواتین کی مرضی شامل تھی۔طارق رمضان کے وکیل ایمانوئیل مارسینی نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘طارق رمضان کے ان خواتین کے ساتھ جو بھی تعلقات تھے اس میں خواتین کی مرضی شامل تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ طارق اب پرسکون ہیں اور آزادی سے بات کرسکتے ہیں۔خیال رہے کہ الزام لگنے کے ایک برس تک طارق رمضان خواتین سے تعلقات کی رپورٹس کومسترد کرتے رہے تھے۔طارق رمضان کے وکیل ایمانوئیل مارسینی نے 24 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں بتایا تھا کہ دونوں خواتین کے موبائل پر موصول ہونے والے پیغامات سے ثابت ہوگیا کہ تعلقات فریقین کی باہمی رضا مند پر قائم ہوئے تھے۔دوسری جانب ہینڈا ایاری کے وکیل جونس حداد نے بتایا کہ ’ ایک برس سے طارق رمضان کے وکیل انہیں بچانے کے مختلف چالیں چل رہے ہیں۔جونس حداد نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس مقدمے کے آغاز سے ہی جھوٹ کہہ رہے تھے کہ ان کے   تعلقات نہیں تھے اور انہیں یہ اعتراف کرنے میں ایک برس لگ گیا۔گزشتہ برس اکتوبر میں مصنفہ ہینڈا ایاری نے الزام عائد کیا تھا کہ طارق رمضان نے 2012

میں ان کا ریپ کیا تھا۔ہینڈا ایاری نے طارق رمضان کے خلاف فرانس میں ریپ اوراستحصال کی شکایت درج کروائی تھی ،جس میں تشدد اور ہراساں کیے جانے سمیت دیگر الزامات بھی عائد کیے گئے تھے ۔کرسٹیلے نے الزام لگایا تھا کہ 2009 میں لیون کے جنوب مشرقی شہر کے ہوٹل میں پروفیسر کی جانب سے انہیں ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔بعد ازاں فرانسیسی عدالت نے طارق رمضان کو

ریپ کے الزامات میں رواں برس فروری میں طلب کرلیا تھا۔18 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں طارق رمضان نے کرسٹیلے نامی خاتون کو ورغلانے کا بھی اعتراف کیا تھا۔اس کیس کی سماعت 18 ستمبر کو 10 گھنٹے تک جاری رہی تھی۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کی جانب سے کرسٹیلے اور طارق رمضان کے درمیان 399 پیغامات کے تبادلے کا انکشاف کیا گیا جس میں دونوں فریقین کے

قریبی تعلقات سے متعلق پیغامات بھی شامل تھے۔کرسٹیلے کے وکلا نے عدالت میں کہا کہ پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ‘حملہ’ تھا جس میں کرسٹیلے کی خواہش شامل نہیں تھی۔رواں برس جون میں سوئٹزرلیں ڈ کی ایک 56 سالہ خاتون نے طارق رمضان پر ریپ کے الزامات عائد کیے تھے۔طارق رمضان 2 فروری سے جیل میں ہیں اور اگر ان پر عائد کیے گئے ریپ کے الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں 15 سال قید کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…